فیئر فورڈ ایئربیس سازش کا الزام، ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے مطالبہ کردیا

فیئر فورڈ ایئربیس سازش کا الزام، ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے مطالبہ کردیا

تہران: ایران نے برطانیہ میں واقع فیئر فورڈ ایئربیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش میں تہران کے ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو طلب کرلیا اور حکومت سے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ یہ اقدام برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے اس بیان کے بعد کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فیئر فورڈ ایئربیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کا ایران میں مربوط ہونا ’’انتہائی ممکن‘‘ ہے۔فیئر فورڈ ایئربیس امریکی بمبار طیاروں کے استعمال میں رہی ہے، جنہوں نے ایران پر حملے کیے تھے، تاہم تہران نے مبینہ سازش سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مغربی یورپ سے متعلق امور کے ڈائریکٹر جنرل نے برطانوی سفیر سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا کہ لندن ایران کے خلاف الزامات کی حمایت میں دستاویزات اور شواہد جلد از جلد فراہم کرے۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے مبینہ واقعے سے متعلق شواہد فراہم نہ کیے تو اسلامی جمہوریہ ایران دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے گا۔تاحال برطانوی حکومت کی جانب سے ایرانی مطالبے کے جواب یا شواہد کی فراہمی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس معاملے سے تہران اور لندن کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔