ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے کمپنی کے چین میں کاروبار کو الگ کرنے، فروخت کرنے یا بند کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں "جعلی خبر" قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹیسلا کے مشیر چین میں کمپنی کے کاروبار کے مستقبل سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں اسے الگ کرنا، فروخت کرنا یا بند کرنا بھی شامل ہے۔تاہم ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ کبھی زیرِ غور ہی نہیں آیا اور رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ممکنہ انضمام سے متعلق قیاس آرائیوں کے بعد ٹیسلا کے چین آپریشنز پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، کیونکہ اسپیس ایکس امریکی دفاعی اور قومی سلامتی کے منصوبوں سے وابستہ ہے۔واضح رہے کہ ٹیسلا کی شنگھائی گیگا فیکٹری کمپنی کی سب سے بڑی پیداواری تنصیب ہے، جہاں سالانہ تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار گاڑیاں تیار کی جا سکتی ہیں۔ چین امریکا کے بعد ٹیسلا کی دوسری بڑی مارکیٹ بھی ہے، جبکہ کمپنی کو وہاں مقامی حریف کمپنی بی وائی ڈی (BYD) سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔