امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کی گرتی ہوئی کمپنی ٹیسلا کو سہارا دینے کے لیے ایک سرخ ٹیسلا ماڈل ایکس خریدنے کا اعلان کیا۔
یہ خریداری وائٹ ہاؤس کے ساوتھ لان میں ایک تقریب کے دوران کی گئی، جہاں ٹیسلا کے دیگر ماڈلز، بشمول سائبر ٹرک، بھی نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ٹرمپ نے ایلون مسک کو "محب وطن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی حمایت میں یہ گاڑی خرید رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ یہ گاڑی کسی رعایت کے بغیر خریدی گئی ہے تاکہ کسی قسم کی جانبداری کا تاثر نہ جائے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹیسلا کے شیئرز میں 15 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ٹرمپ نے اس کمی کو "ریڈیکل لیفٹ لبرلز" کے بائیکاٹ کا نتیجہ قرار دیا، تاہم ماہرین نے اس کمی کی وجہ ٹیسلا کی پیداوار اور فروخت کے مسائل قرار دی۔
ٹرمپ کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد کردہ نئے ٹیرف نے بھی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ٹیسلا بلکہ دیگر کمپنیاں جیسے ایمازون، میٹا، اور الفابیٹ بھی متاثر ہوئیں۔صدر ٹرمپ نے ٹیسلا گاڑیوں اور شورومز پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو انہیں "داخلی دہشت گردی" قرار دیا جائے گا۔ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ نئے ٹیرف نے عالمی سطح پر مارکیٹ میں بحران پیدا کر دیا ہے، اور کینیڈا، یورپی یونین، اور آسٹریلیا نے جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔