عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود قیمتوں میں کمی

عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود قیمتوں میں کمی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں جمعہ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ماہانہ بنیاد پر برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 20 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.03 ڈالر کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.50 ڈالر سستا ہو کر 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کے اشاروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کو کسی حد تک متوازن کر دیا، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی تجزیہ کار ڈینیل ہائنس کے مطابق خطے میں جغرافیائی کشیدگی برقرار ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی روانی میں اضافے نے عالمی منڈی کو وقتی اطمینان فراہم کیا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کثیرالملکی دفاعی اتحاد کی تشکیل کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جسے پاکستان، مصر، ترکی، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

ادھر یمن میں ایران سے وابستہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت جاری ہے، تاہم بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سبب تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا عنصر بدستور شامل ہے۔