مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی منڈی میں امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بڑھ کر 91.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح برینٹ کروڈ آئل 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی 94.43 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات
توانائی کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی عالمی سپلائی چین کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جس کے باعث سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر نیچے ہو رہی ہیں۔

درآمدی ممالک پر اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے تشویشناک ہے جو ایندھن کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کی شرح پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

ممکنہ معاشی اثرات
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی افراط زر (inflation) اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ متوقع ہے۔فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی طلب اور رسد پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔