مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم سعودی عرب پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل 27 اکتوبر کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 66 سینٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 115.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 44 سینٹ، یعنی 0.43 فیصد کمی کے بعد 101.32 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور سفارتی مذاکرات میں پیشرفت کی امید ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر فریقین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بھی کم ہوسکتے ہیں۔
ایران میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مذاکرات
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پیر کے روز سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے، جن کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔سعودی عرب کے مطابق اس دورے کا مقصد ایسے سفارتی راستے تلاش کرنا تھا جن کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جاسکے اور فوجی تصادم کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خطرات کو روکا جاسکے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکرات میں شریک چاروں ممالک نے امن اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔عالمی منڈی میں تیل کے کاروبار سے وابستہ سرمایہ کار ان مذاکرات کو اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ خطے میں جنگ اور حملوں کے باعث تیل کی پیداوار، ترسیل اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
سعودی عرب پر حملے اور آبنائے ہرمز میں خطرات برقرار
سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں اور خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورت حال برقرار رکھی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر حملوں میں اضافہ ہوا یا آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی محدود ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ممکن ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور دیگر توانائی کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی، ترسیلی اخراجات اور قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے آبی راستوں میں تجارتی جہازوں پر حملے 2017 میں ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ ان واقعات نے تیل کی محفوظ ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں
گزشتہ ہفتے ایرانی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ پیر کے روز بھی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں فوجی کارروائیوں اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات تیل کی قیمتوں میں تیزی پیدا کر رہے ہیں۔تازہ کاروباری سیشن میں قیمتوں میں کمی کے باوجود خام تیل کی بلند سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کار سفارتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی صورت حال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
روسی ریفائنریز میں ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ
دوسری جانب روسی ریفائنریز اکتوبر میں ڈیزل کی پیداوار بڑھا رہی ہیں۔ صنعت سے وابستہ دو ذرائع کے مطابق روسی حکومت کی جانب سے برآمدی کوٹے کی اجازت اور امریکا کے ساتھ رسد سے متعلق معاہدے کے بعد یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔ڈیزل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے سے عالمی سطح پر ایندھن کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس کا مجموعی اثر دیگر عوامل، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل اور جنگ کی صورت حال، پر منحصر ہوگا۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے اور تیل کی رسد سے متعلق خدشات کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا خطے میں حملوں اور کشیدگی کے باعث قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوتا ہے۔اگر مذاکرات کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال رہتی ہے تو تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس، حملوں میں اضافے یا سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں عالمی منڈی میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔