میاں شہزاد طفیل
لاہور کو ہمیشہ پاکستان کا دل، علم و ادب، ثقافت اور تہذیب کا مرکز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یہ شہر اپنی تاریخی اہمیت، تجارتی سرگرمیوں اور رات گئے تک جاری رہنے والی زندگی کے باعث ملک بھر میں منفرد شناخت رکھتا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے اس شناخت کو ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا لاہور واقعی غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے؟گزشتہ چند دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات نے شہریوں میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف ہوٹلوں میں ڈکیتی کی وارداتیں، دوسری جانب حساس علاقوں میں فائرنگ اور قتل کے واقعات، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایسے سنگین جرائم ان مقامات پر پیش آئیں جہاں سیکیورٹی کا نظام نسبتاً مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کلینک میں، وہ بھی اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر کے عقب میں، ایک معروف سیاست دان کو قتل کر دیا جائے تو یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ شہریوں کے احساسِ تحفظ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر حساس مقامات بھی محفوظ نہیں تو پھر عام بازار، رہائشی علاقے، دفاتر اور کاروباری مراکز کس حد تک محفوظ ہیں؟یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں روزانہ لاکھوں افراد روزگار، تعلیم، علاج اور کاروبار کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ایسے میں امن و امان کی صورتحال صرف پولیس کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، سیاحت اور شہری اعتماد سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ جب شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو کاروبار متاثر ہوتا ہے، سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ماضی میں متعدد کامیاب کارروائیاں بھی کی ہیں اور کئی خطرناک جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم عوام کی توقع یہی ہے کہ جرائم کی روک تھام، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، سیف سٹی نظام کی مؤثر نگرانی، انٹیلی جنس کے بہتر تبادلے اور فوری رسپانس کے ذریعے ایسے واقعات کو پہلے ہی مرحلے پر روکا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرے، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرے۔ امن صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاستی اداروں اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔
آج لاہور کو بیانات سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے بلاخوف نکل سکیں، رات گئے بھی محفوظ سفر کر سکیں اور انہیں یقین ہو کہ ریاست ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔
لاہور کی شناخت صرف تاریخی عمارتوں، کھانوں اور ثقافت سے نہیں بلکہ اس کے محفوظ ماحول سے بھی وابستہ ہے۔ اگر جرائم پر مؤثر قابو نہ پایا گیا تو یہ مسئلہ صرف امن و امان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی مرتب کرے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر مؤثر حکمتِ عملی اختیار کریں تاکہ لاہور ایک بار پھر واقعی ایک محفوظ اور پْرامن شہر بن سکے۔