کراچی کے علاقے گھگھر پھاٹک بمبوگوٹھ میں پسند کی شادی پر قتل کیے گئے بلوچستان کے جوڑے اور ان کے کمسن بچے کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ سکینہ کے بھائی، والد سمیت 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمہ درج
مقدمہ اسٹیل ٹاؤن تھانے میں مقتول عبدالمجید کے بھائی امام بخش ولد محمد بخش کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں:
مقتولہ سکینہ کے بھائی شہزاد عرف راجہ
والد گلاب خان
اور میر علی عرف حسن سمیت 6 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔
پس منظر
ایف آئی آر کے مطابق مقتول عبدالمجید نے 7 سے 8 سال قبل سکینہ سے کورٹ میرج کی تھی۔ دونوں کا 3 سالہ بیٹا عبدالنبی بھی تھا۔ یہ خاندان 8 ماہ سے گھگھر پھاٹک بمبوگوٹھ میں رہائش پذیر تھا۔امام بخش کے مطابق، بھائی عبدالمجید محنت مزدوری کرتا تھا۔ شہزاد عرف راجہ نے فون پر قتل کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: "ان لوگوں کو قتل کردیا ہے، آ کر لاشیں اٹھالو۔"
قتل کی تفصیل
مقتولین کو کلہاڑی کے وار سے قتل کیا گیا۔دونوں خاندانوں کے درمیان پسند کی شادی پر تنازع چل رہا تھا، جو 2 سال قبل صلح پر ختم ہوگیا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ قتل کیا گیا۔مقتولین کی لاشیں پہلے بلوچستان کے علاقے بیلہ لے جائی گئیں لیکن تدفین سے انکار پر دوبارہ سہراب گوٹھ ایدھی سردخانے منتقل کر دی گئیں۔
اہل خانہ کا مؤقف
مقتول کے بڑے بھائی نوروز نے بتایا:"بھائی، بھابی اور بھتیجے کو قتل کے بعد بھابی کے بھائی نے خود فون پر اطلاع دی۔""چار یا پانچ سال قبل شادی کے بعد دونوں خاندانوں کی صلح ہوگئی تھی، اس کے باوجود یہ قتل کیا گیا۔""بھابھی اپنی مرضی سے آئی تھی اور کورٹ میرج کی تھی۔"انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں زمیندار کی ہدایت پر لاشیں دوبارہ کراچی لائی گئیں اور اب انہیں گھگھر پھاٹک قبرستان میں دفن کیا گیا۔
نماز جنازہ اور تدفین
مقتولین کی نماز جنازہ گھگھر پھاٹک کے مقامی قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں اہل خانہ، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ نماز جنازہ کے بعد تینوں کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کردیا گیا۔