بڑھاپے میں پسند کی شادی کرنا بزرگ جوڑے کے لیے جرم بن گیا، خاتون اغوا اور تشدد کا شکار

بڑھاپے میں پسند کی شادی کرنا بزرگ جوڑے کے لیے جرم بن گیا، خاتون اغوا اور تشدد کا شکار

یہ واقعہ غیرت کے نام پر کیے جانے والے جرائم کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔

لودھراں میں 53 سالہ خاتون نذیر بی بی کو پسند کی شادی کرنے پر اپنے ہی بھتیجوں کے تشدد اور اغوا کا نشانہ بننا پڑا۔

واقعے کی تفصیلات:
نذیر بی بی نے تین ماہ قبل رمضان نامی شخص سے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا۔نکاح کے بعد وہ عمرہ ادا کرنے سعودی عرب چلے گئے تھے اور تین روز قبل واپس آئے تھے۔
واپسی پر نذیر بی بی کے بھتیجوں نے حملہ کر کے انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، لہولہان کردیا اور اغوا کر کے لے گئے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا اور خاتون کو انتہائی تشویشناک حالت میں بازیاب کرایا، جنہیں ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون کا بیان:
نذیر بی بی کا کہنا ہے:"میں 10 سال سے بیوہ تھی، میرے چار بچے ہیں جن کی شادی ہو چکی ہے۔ ہم نے بچوں کی مرضی سے عدالت میں نکاح کیا تھا، لیکن مجھے جانوروں کی طرح زمین پر لٹا کر مارا گیا۔"
پولیس کا موقف:
پولیس نے چار ملزمان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ڈی پی او کامران ممتاز کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے، جہاں ایک بالغ عورت اپنی پسند کی شادی کے بعد بھی تشدد اور ظلم کا سامنا کرتی ہے۔