آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا استعمال کی پابندی، یوٹیوب بھی فہرست میں شامل

آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا استعمال کی پابندی، یوٹیوب بھی فہرست میں شامل

آسٹریلوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر عائد پابندی میں یوٹیوب کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

 نومبر 2024 میں بنائے گئے قوانین میں یوٹیوب کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، تاہم حکومت نے اب اعلان کیا ہے کہ ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ پر بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔

پابندی کا اطلاق دسمبر 2025 سے ہوگا
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے پر پابندی کا اطلاق دسمبر 2025 سے ہوگا۔ قانون کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بند کر دیے جائیں گے۔یوٹیوب پہلے اس فہرست میں شامل نہیں تھا، تاہم حکومت نے اب وضاحت کی ہے کہ یوٹیوب بھی اس قانون کے تحت آ جائے گا۔

یوٹیوب کے لیے نئی شرائط
قانون کے تحت:16 سال سے کم عمر بچے یوٹیوب ویڈیوز تو دیکھ سکیں گے لیکن اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔اکاؤنٹ کے بغیر کم عمر افراد پلیٹ فارم پر مواد اپلوڈ نہیں کر سکیں گے۔
ویڈیوز پر تبصرہ یا کسی قسم کا انٹریکشن نہیں کر سکیں گے۔
یوٹیوب کا مؤقف
یوٹیوب نے پابندی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ:"یوٹیوب ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک تعلیمی اور مفید ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہے۔"یوٹیوب نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلوی حکومت سے بات چیت جاری رکھے گا تاکہ آئندہ اقدامات پر غور کیا جا سکے۔
دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات
آسٹریلیا کے اس قانون کو دنیا بھر میں دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ناروے نے اسی نوعیت کی پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔برطانیہ بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
پاکستان میں صورتحال
پاکستان میں بھی 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز سامنے آ چکی ہے، جس پر پارلیمانی کمیٹیاں غور کر رہی ہیں۔