ویب ڈیسک: ترکیہ کی حکومت نے ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رسائی محدود کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک اور واٹس ایپ سمیت متعدد بڑے پلیٹ فارمز پر ترکیہ کے عوام کو پابندیوں کا سامنا ہے۔یہ اقدام اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے احتجاجی اعلان کے بعد سامنے آیا۔ سی ایچ پی نے استنبول میں اپنے مرکزی دفتر کے اطراف پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے پر عوامی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے جواب میں حکومت نے یہ سخت اقدام اٹھایا۔
انٹرنیٹ پر پابندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی ادارہ "ایکسیس پرووائیڈرز یونین" ہے، جو ملک میں انٹرنیٹ بلاکنگ کے سرکاری فیصلوں پر عملدرآمد کراتا ہے۔ تاہم اس ادارے نے سوشل میڈیا بلاک کیے جانے کے فیصلے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ترکیہ میں اس فیصلے نے عوامی حلقوں اور ماہرین میں بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کا الزام عائد کیا ہے۔