نازیہ آصف
(مصری قدیم معاشرے میں عورت کے مقام کے تعین کے معتبر ذرائع آثار قدیمہ، تحریری متن اور مصوری و مجسمے ہیں )۔
انتہاء تاسف سے کہنا پڑتا ہے کہ کی ہندوستانی اور عیسائی معاشرے کی طرح مصری معاشرے میں بھی خواتین بے زبان اور بے عمل نظر آتی ہیں۔
ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں کہ
" مصری معاشرے کی سماجی درجہ بندی کو دیکھا جائے تو سب سے اول روحانی دنیا اور اس کے دیوی دیوتا تھے۔اس کے بعد بادشاہ کا نمبر آتا تھا جس کا تعلق روحانی دنیا سے بھی ہوتا تھا۔اس کے بعد آرٹسٹ ، ہنر مند کسان اور پھر غلاموں کا مقام آتا۔
شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین کا تھوڑا بہت ذکر تاریخ میں ملتا ہے کیونکہ وہ شاہی امور میں کچھ عمل دخل رکھتی تھیں۔مگر عام عورت اور کسان خواتین منظر نامے سے غائب ہیں "۔
تصاویر اور مجسموں سے جو عورت سامنے آتی ہے اس میں اگر ان کی دیوی ہاتھور کو دیکھیں تو وہ گدھ اور کوبرا کی کھال کا ماسک پہنتی تھی۔ بعد میں عقاب کے پر اور سورج کی کرنوں والے تاج بھی پہننے لگی۔یہی دیوی ایک طرف زرخیزی خوشحالی کی علامت تھی تو دوسری طرف تباہی و بربادی کی۔یہی رویہ عورت سے متعلق تھا کہ اگر وہ روایات کی پاسداری کرے تو اچھی عورت کے اور اگر نہ کرے تو بری عورت۔ (دوسرے لفظوں میں بالکل آج کے پاکستانی معاشرے کی صورت)۔
مصر میں قدیم روایات کے مطابق تخت کی وارث عورت ہوا کرتی تھی مگر تخت پر مرد ہی بیٹھتا۔لہذا خود کو جائز ثابت کرنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ وارث عورت سے شادی کرے ، اب چاہے وہ بہن کی کیوں نہ ہو۔ اس لیے ہر بادشاہ تخت پر بیٹھنے کے لیے تخت کی وارث عورت سے پہلے شادی کرتا تھا۔اس روایت و قانون کی رو سے وارث کو بہن یا بیٹی سے بھی شادی کرنی پڑتی۔مگر یاد رہے کہ یہ روایات وغیرہ بادشاہوں کے لیے تھیں عام معاشرے میں ان پہ عمل نہیں کیا جاتا تھا۔
مصری تاریخ میں بھی خاوند کی موت کے بعد بیوی تو اس کے ساتھ دفن کر دی جاتی تھی مگر دنیا کے دیگر تمام مذاہب کی طرح کبھی خاوند بیوی کے ساتھ دفن نہیں ہوا تھا۔
صوفیاء اور عورت
صوفیانہ ادب میں دوسرے رنگ میں عورت کو دنیا سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جب روحانی دنیا میں مقام پانے کے لیے ترک دنیا پہ زور دیا گیا تو ان میں سر فہرست عورت تھی۔جو اپنی دلکشی و رعنائی اور وجود سے شیطان کا کردار ادا کرتی تھی۔
ڈاکٹر این میری شمل کی ریسرچ کے مطابق۔۔۔
(Mystical dimensions of Islam)
صوفیاء کے نزدیک عورت کو شہوت پرست، طوائف ، بے وفا اور ایک ایسی عورت جو کہ اپنے بچے تک کھا جاتی ہے اور اس سے ہوشیار رہنے کی اجازت ہے۔
حضرت علی ہجویری نے اپنی کتاب " کشف المحجوب "
میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے " نکاح کرنے میں دو آفتیں ہیں ایک یہ کہ دل غیر حق میں مصروف ہو جاتا یے اور دوسرے یہ کہ جسم کو نفسانی لذتوں کی عادت پڑ جاتی ہے اس لیے جو شخص عبادت و ریاضت میں مشغول ہونا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شادی نہ کرے۔
کشف المحجوب میں ہی وہ آگے چل کر مزید لکھتے ہیں
کہ "مشائخ طریقت کا اس پر اجماع ہے کہ بہترین اور افضل لوگ وہ ہیں کہ وہ تجرد کی زندگی گزار دیں "۔
اسی طرح ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب عورت اور تاریخ میں رقمطراز ہیں کہ " ایسے ہی خیالات ہمیں اٹھارہویں صدی میں چشتیہ سلسلے کے ایک صوفی شیخ کلیم اللہ کے ہاں بھی ملتے ہیں۔ "وہ اپنے خلفاء کو شادی سے منع کرتے تھے اور کیا کرتے کہ عورتیں دین کو ختم کر دیتی ہیں اس لیے لوگوں کو ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔اگرچہ وہ چشتیہ سلسلے میں عورتوں کو مرید کرتے تھے اور اپنے خلفاء سے کہتے کہ جوان بوڑھی خوبصورت اور بدصورت سب جو مرید کرو مگر ان کے ساتھ زیادہ عرصے تک مت ٹھہرو اور ان کو مرید کرتے وقت تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرو۔ مصافحہ کرتے وقت ہاتھ پہ کپڑا باندھ لو۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی الجھنوں کا باعث ہے اس لیے ضرورت کے بغیر شادی نہیں کرنی چاہیے "۔
عہد سلاطین اور مغلیہ دور میں میں اسلامی معاشرہ بھی عورت کے معاملے میں تضادات کا شکار رہا۔ عام عورت دباؤ مشقت کا شکار رہی ، اس کی زندگی کا مقصد محض دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنا تھا اب چاہے وہ اس کا باپ ، بھاء خاوند یا پھر بیٹا کی کیوں نہ ہو، اس کے علاؤہ امراء کے ہاں کام کرنے والیوں کی بھی اپنی کوء زندگی نہیں تھی۔ امیروں کا ٹہل ٹکوڑا ہی ان کا مقصد حیات تھا۔ امراء کی خواتین اپنے بل بوتے پر امور حکومت میں عمل دخل کا اختیار حاصل کر لیتی تھیں۔
انگریزوں کی آمد کے بعد جب لوگ انگریزی تعلیم اور کلچر سے آشنا ہوئے تو معاشرے میں ہلچل پیدا ہوء۔
جس سے خواتین میں بھی تعلیم حاصل کرنے کی امنگ پیدا ہوئی۔ایسے میں مولانا اشرف علی تھانوی نے بہشتی زیور لکھ کر اس جاگیر دارانہ معاشرے کو آخری سہارا دینے کی سعی کی۔ جب ان کی کتاب بہشتی زیور کی دس جلدیں شادی بیاہ میں بھی خواتین کو دی جانے لگیں جن میں درج حقائق کا تعلق اسلام سے کم جبکہ ہندوستانی معاشرے سے زیادہ تھا۔
قلمکار
(جاری ہے )۔