عورت کی تعلیم اور معاشرے پر اس کے اثرات

رمشا بتول
عورت کو اگر معاشرے کی بنیاد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اور تعلیم وہ سیمنٹ ہے جو اس بنیاد کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت صرف اپنا نہیں، پوری نسل کا مستقبل سنوارتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ عورت کی تعلیم معاشرے پر کیا انقلابی اثرات مرتب کرتی ہے:

1. باشعور نسل کی پرورش
ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرتی ہے۔ وہ صحت، صفائی، اخلاق اور تعلیم کی اہمیت جانتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ماں کے ایک سال زیادہ پڑھنے سے بچے کی اموات کی شرح 5 سے 10 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ یعنی پڑھی لکھی عورت صحت مند پاکستان کی ضمانت ہے۔

2. معاشی استحکام
جب عورت تعلیم حاصل کر کے روزگار کے میدان میں آتی ہے تو گھرانے کی آمدنی بڑھتی ہے۔ غربت کم ہوتی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم میں 1% اضافہ کسی ملک کی سالانہ GDP گروتھ کو 0.3% بڑھا دیتا ہے۔ ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر، بینکر - ہر شعبے میں عورت کی شرکت معیشت کا پہیہ تیز کرتی ہے۔

3. کم شرحِ پیدائش، بہتر خاندانی منصوبہ بندی
تعلیم یافتہ عورت شادی اور بچوں کے حوالے سے بہتر فیصلے کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کم بچے ہوں تو ان کی تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں پڑھی لکھی خواتین میں اوسطاً 2.3 بچے ہیں جبکہ ان پڑھ خواتین میں یہ تعداد 4.4 ہے۔ یہ فرق غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

4. جرائم اور انتہا پسندی میں کمی
تعلیم شعور دیتی ہے، اور شعور برداشت سکھاتا ہے۔ پڑھی لکھی عورت اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے محبت کا درس دیتی ہے۔ وہ گھریلو تشدد 
کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور قانون کا سہارا لیتی ہے۔ جس گھر میں ماں پڑھی لکھی ہو، وہاں بچوں کے انتہا پسند تنظیموں میں جانے کے امکانات 70% کم ہو جاتے ہیں۔

5. صحت مند معاشرہ
ایک تعلیم یافتہ عورت ویکسین، خوراک، اور بیماریوں سے بچاؤ کی اہمیت جانتی ہے۔ وہ پولیو کے قطرے پلوانے سے نہیں گھبراتی۔ وہ ڈاکٹر سے کھل کر بات کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پورا خاندان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

6. فیصلہ سازی میں شرکت
جب عورت پڑھ لکھ کر گھر اور معاشرے کے فیصلوں میں حصہ لیتی ہے تو پالیسیاں متوازن بنتی ہیں۔ یونین کونسل سے پارلیمنٹ تک، عورت کی آواز مسائل کا وہ رخ دکھاتی ہے جو مرد نہیں دیکھ پاتے - جیسے صاف پانی، سکول، ہسپتال۔عورت پر تعلیم کے دروازے بند کرنا دراصل پورے معاشرے کی ترقی کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ جو قومیں اپنی بیٹیوں کو قلم تھماتی ہیں، وقت انہیں عزت کا تاج پہناتا ہے۔ یاد رکھیں: "ایک مرد کو پڑھاؤ تو ایک فرد پڑھتا ہے، ایک عورت کو پڑھاؤ تو پوری نسل پڑھ جاتی ہے۔"اگر ہم نے واقعی ترقی کرنی ہے تو بیٹیوں کے ہاتھ میں ڈولی سے پہلے ڈگری دینی ہو گی۔ کیونکہ باشعور ماں ہی باشعور قوم بناتی ہے۔