نازیہ آصف
قارئین ! زمانہ قدیم میں مختلف مذاہب میں میں عورت کا مقام و مرتبہ ہم نے دیکھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورت کے معاملے میں راہب برہمن صوفیا سب اس سے اس قدر خائف کیوں رہے، سب نے اسے براء کی جڑ کیوں قرار دیا ، اسے فتنہ کہہ کر بچنے کی خواہش کیوں کرتے رہے ؟
مزید کچھ لکھنے سے پہلے میں فقط یہ کہنا چاہوں گی کہ "کیا اتنے سخت رویے ، نظریات، متشددانہ ماحول کے باوجود بھی عورت اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے تو کیا یہ اس کے وجود کو ضعیف الفطرت ، صنف نازک کہنا درست بنتا ہے ؟
عورت اگر اتنی ناقص العقل ہوتی تو قوموں کے مستقبل کی معماری اس کی گود میں نہیں ڈال دی جاتی۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ تمام مذاہب میں بہت سی تفریقات ہیں مگر یہ ایک ایسا g ہے کہ جس پہ سب متفق ہیں۔ عورت کے ساتھ سب کا رویہ یکساں ہے۔جبکہ عورت مرد کے وجود کا حصہ ہے اس کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، اور جس سے ناگزیر گریزاں ہے تو اس سے دوری کیونکر ممکن ہو۔ عورت آدم کے ساتھ پیدا کی گئی ، اس کے سنگ زندہ رہی ، ساتھ ہی جنت سے نکالی گء اور اولاد کی پیدائش و تربیت کے بعد آدم و حوا اکٹھے دنیا سے رخصت ہوئے۔ پھر یہ تفاوت کیوں کر پیدا ہوا۔۔۔ ؟لیکن یہ بھی نہیں کہ ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہو۔ تاریخ میں کی مادر سری معاشرے بھی ہو گزرے ہیں اگرچہ وہ بہت کم تھے مگر تاریخ کے اوراق میں ان کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ان میں سب سے پہلے ہم ذکر کرتے ہیں ایمازون مدد سری معاشرے کا، جس کے متعلق کء کہانیاں مشہور تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بحیرہ اسود کے کے جنوب مشرق میں رہنے والیاں تھیں۔ شکار کرتیں اور جنگ وجدل ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ان میں مرد کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔مرد آبادی سے باہر کناروں پہ رہتے تھے جنھیں فقط ضرورت کے لیے ہی طلب کیا جاتا اور انھیں پھر واپس اپنی جگہ پہ جانا ہوتا تھا اور اگر کسی خاتون نے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو وہ اسے خود رکھ لیتی، اگر بیٹا ہوتا مردوں کو ہی دے دیتیں۔
ہندوستان میں ویدک دور سے سیتا تک اور پھر سیتا سے دروپدی کا یہ بدلاؤ اگرچہ بہت آہستہ آہستہ ہوا مگر اثر انگیز ہوا۔ جیسے کہ ہندو لٹریچر میں ہمت پہل نیوگ کا رواج تھا۔ جس میں اگر ایک خاوند سے اولاد نہیں ہوتی تو دوسرے مردوں سے تعلقات بنانے میں آزادی تھی مگر جب رامائن کا دور آیا تو سیتا کے آگ پہ اپنی پاکبازی ثابت کرنے کے باوجود رام جی نے اسے جلاوطن کر دیا جہاں اس نے مرنے کی دعا کی، جو قبول ہوء۔ اور یوں ہندوستانی معاشرے سیتا کے نقش قدم پہ چل نکلا اور پھر دھیرے دھیرے تاریخ کا یہ سفر رسم ستی تک آ پہنچا۔ جس نے یہ ثابت کیا کہ بیوہ کے لیے اس جیتے جاگتے معاشرے میں کچھ نہیں بچا تھا۔ ہندوستانی معاشرے میں آریاؤں کی آمد کے بعد میں جب زات پات کا نظام وضع ہوا اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے برہمن نے پہلے نچلی ذاتوں پہ پابندی لگاء اور پھر عورتوں پہ بھی کہ وہ کوء مذہبی بھجن یا اشلوک وغیرہ نہیں گا سکتیں۔ تبدیلیوں کے اس ارتقاء دور میں برہمن نے ایک طرف تو عورت کے اس طرح جل کر مر جانے میں فلاح اور مکتی کی راہ دکھائی تو دوسری طرف غیر شادی شدہ کا مرنا بھی پاپ کے برابر کر دیا جس سے انتہاء کم عمری میں شادی کا رواج عام ہو گیا۔
اسلامی معاشرے نے عورت کو مقام دیا۔ جس کی مثال نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب حالت سفر میں تھے آپ کی ازواج مطہرات بھی ساتھ اونٹوں پہ سوار تھیں تو آپ نے فرمایا ، " اے انجشہ ، آہستہ چلو، آبگینے ہیں انھیں ٹھیس نہ پہنچاو"۔
اسی طرح حضرت سارہ (علیہ السلام) کے مقام کا بھی اندازہ کیجیے کہ جن کے صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانے کو سنتہ المسلمین قرار دے دیا گیا۔ مگر مابعد اس اسلامی معاشرے کے یہ حقوق کا معاشرے نے خواتین کو دیے ؟۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد معاشرے نے خواتین کو کتنے حقوق دیے۔ بڑے تاسف سے کہنا پڑتا ہے کہ عرب سے اسلام کی یہ روشنی ہندوستان پہنچنے تک
ہندو مت سے متاثر ہو چکی تھی۔یہاں ذات پات کا نظام انسانوں کو پوری طرح شکنجے میں لے چکا تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد نچلے طبقوں نے اسلام قبول کرنے میں تو پہل کی مگر عورتوں کے متعلق ان کا رویہ نہ بدلا۔بلکہ آہستہ آہستہ ان کے رویے میں سختی آء۔ جس کو سہارا دینے کے لیے جاگیرداری معاشرے نے علماء سے بھی بھرپور مدد لی۔جنھوں نے معاشرتی حالات میں ناقابل قبول تغیرات کے رد کے لیے ناصحانہ واعظ کیے، کتب لکھیں۔ عورتوں کے لیے کتاب پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا یا پھر بہشتی زیور ، نصیحہ المسلمین ، ہدایت النساء ، بہشت نامہ، دوزخ نامہ، کو پڑھنا باعث ثواب قرار دیا گیا۔ قابل غور بات ہے کہ مردانہ معاشرے نے زندگی کی ساری لطافتیں اپنے اوپر تو حلال رکھیں ، ان سے کماحقہ فائدہ بھی اٹھایا مگر خواتین کو دوزخ نامہ ، بہشت نامہ پڑھنے پہ لگائے رکھا گویا زندگی جینے سے زیادہ آخرت کی تیاری۔۔۔ چہ جائیکہ۔۔ ؟
حیرت کی بات ہے کہ جن علماء نے عورت کا میک اپ کرنا فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا قرار دیا تھا، اس کا کتاب پڑھنا ، گھر سے باہر نکلنا ممنوع قرار دیا تھا انھیں علماء نے دم درود تعویزات وغیرہ کروانے کے لیے راستہ کھلا رکھا۔ جیسے کہ گھر میں کچھ مسائل ہوں جو حل نہ ہو رہے ہوں تو عورت تعویز کروا سکتی تھی۔ المختصر ، قارئین پہلے عورت کو دبایا گیا ، چھپایا گیا، اس سے ڈرایا گیا، مگر فطرت کبھی ان چیزوں سے ڈرتی یے، دبتی ہے اور نہ خاموش ہوتی ہے وہ اپنی راہ لیتی ہے۔
ایک بار پھر وقت بدلا، سرمایہ دارانہ نظام وضع ہوئے تو عورت کی ضرورت محسوس ہوئی جیسے کبھی سیکرٹری کی صورت ساتھ رکھا، تو کبھی طوائف بنایا۔
یاد رہے ، طوائف وہ عورت ہوتی تھی جس میں زندگی کے وہ سارے رنگ ہوتے تھے جو گھر کی عورت کے لیے قطعا ممنوع سمجھے جاتے تھے ، لیکن پھر بھی سب جاگیرداری، سرمایہ دار دل بہلانے اسی کے کوٹھے پہ جاتے تھے اور المیہ ہے کہ پھر آداب زندگی سکھانے کے لیے نوابین اپنے جانشینوں کو بھی طوائف کے کوٹھے پہ ہی بھیجتے تھے۔
آفاق میں جنت کا نشاں ہے عورت
غارت گر کہاں ہے عورت
آدم سے کہو ، اتنا پریشاں نہ ہو
جنت وہی دھرتی ہے، جہاں ہے عورت
قلمکار۔۔۔
naziaasifadv20@gmail.com