پروفیسر آسیہ تبسم شکر گڑھ
یہ عام تاثر پایا جاتا ہے عورت نکاح کے بعد مکمل طور پر محفوظ ہو جاتی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور ذمہ داریوں سے بھرپور ہے۔ اسلام نے نکاح کو صرف سماجی بندھن نہیں بلکہ سکون، رحمت اور ذمہ داری کا رشتہ قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں کہا گیا ہے’’ یعنی تمہیں ان کے پاس سکون ملے‘‘۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد عورت کو بے یقینی میں ڈالنا نہیں بلکہ اسے ذہنی اور جذباتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
نبی کریم نے عورت کے احترام اور اس کے تحفظ پر خاص زور دیا۔ آپ نے فرمایا: ‘‘تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔’’ (سنن ترمذی، حدیث 3895)۔ اس حدیث میں واضح پیغام ہے کہ عورت کا تحفظ صرف جسمانی نہیں بلکہ حسنِ سلوک، محبت اور عزت کے ذریعے ممکن ہے۔ جب شوہر اپنے رویئے میں نرمی اور ذمہ داری دکھاتا ہے تو عورت خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم نے فرمایا: ‘‘عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے۔’’ (صحیح مسلم، حدیث 1218)۔ اس ارشاد میں نکاح کے بعد مرد پر عائد ہونے والی ذمہ داری کو بہت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ عورت کسی کی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے، اور امانت کا تقاضا ہے کہ اس کی عزت، احساسات اور حقوق کا خیال رکھا جائے۔
اسلامی تعلیمات میں باپ کے گھر کو بھی عورت کے لیے محبت اور تحفظ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم نے بیٹیوں کی پرورش پر خاص فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ‘‘جس نے دو بیٹیوں کی اچھی تربیت کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔’’ (صحیح مسلم، حدیث 2631)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کا گھر عورت کے لیے اعتماد اور بے لوث محبت کی بنیاد ہوتا ہے، جہاں وہ بغیر خوف کے اپنی بات کہہ سکتی ہے۔
اصل مسئلہ نکاح یا رشتے میں نہیں بلکہ رویّوں میں پیدا ہوتا ہے۔ جب اعتماد کمزور ہو جائے، جب عورت کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، جب اس کی قربانیوں کو معمولی سمجھ لیا جائے تو وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتی ہے۔ اسلام نے شوہر کو قوام بنایا ہے، مگر اس کا مطلب حاکمیت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ قوام وہ ہے جو سہارا دے، نہ کہ دباؤ پیدا کرے۔
اسی لیے نبی کریم کی سیرت ہمیں اعتدال کا راستہ دکھاتی ہے۔ آپ گھریلو معاملات میں مدد کرتے، ازواجِ مطہرات کے جذبات کا خیال رکھتے اور ان کے ساتھ مشورہ کرتے تھے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ (صحیح بخاری، حدیث 676)۔ یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ عورت کا تحفظ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی احترام سے ہوتا ہے۔
آج کے معاشرے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح کو صرف ذمہ داریوں کی فہرست نہ سمجھا جائے بلکہ رحمت کا رشتہ بنایا جائے۔ عورت کو تحفظ وہاں ملتا ہے جہاں اسے عزت دی جائے، اس کی بات سنی جائے اور اس پر اعتماد کیا جائے۔ اگر اسلامی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں
اپنایا جائے تو شوہر کا گھر بھی عورت کے لیے اتنا ہی محفوظ بن سکتا ہے جتنا اس کا باپ کا گھر ہوتا ہے۔
بالآخر اسلام یہی سکھاتا ہے کہ عورت کا تحفظ کسی ایک رشتے سے وابستہ نہیں بلکہ حسنِ سلوک، عدل اور محبت سے وابستہ ہے۔ جب یہ تینوں عناصر موجود ہوں تو نکاح عورت کے لیے سکون بن جاتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو سنتِ نبوی ہمیں عطا کرتی ہے۔