بندہ غائب ہے ، آپ آرام سے بیٹھے ہیں،عدالت ،لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کیلئے 4 روز کی مہلت
اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتا شہری نسیم بٹ کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران پولیس کورپورٹ جمع کروانے کیلئے 4 روز کی مہلت دیتے ہوئے رپورٹ مانگ لی ہے۔جبکہ اسلام آبادہائی کورٹ نے پولیس کی ناقص کا رکردگی پر اظہار برہمی کیاہے اور جسٹس محمداعظم نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایک بندہ غائب ہے اور آپ آرام سے بیٹھے ہیں،ہم آپ کیساتھ زیادہ نرمی کرتے ہیں جسکا آپ غلط فائدہ اٹھاتے ہیں،اگر پولیس کا بندہ غائب ہوتا تو کیا پولیس تب بھی ایسے ہی تفتیش کرتی۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں ۔جسٹس محمد اعظم خان نے لاپتا شہری کی بازیابی کیلئے دائر اہلیہ کی درخواست پر سماعت کی ۔اس دوران وفاقی پولیس کے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایاکہ ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی ہے جس میں 3 گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے،گاڑیوں کے نمبر ٹریس نہیں کر پا رہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا پولیس کی ناقص تفتیش پر اظہار برہمی کیا۔ڈی ایس پی لیگل نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید انویسٹی گیشن کیلئے ہمیں ایک ہفتے کا وقت دیا جائے ،تاہم عدالت نے وفاقی پولیس کو4 روز کاتفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے بازیابی کیس کی سماعت ملتوی کردی۔