بھارتی شہر بنگلورو میں ایک بڑے رئیل اسٹیٹ گروپ کے سربراہ سی جے رائے اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کے دفتر میں محکمۂ انکم ٹیکس کی کارروائی جاری تھی۔
کانفیڈنٹ گروپ کے 57 سالہ چیئرمین نے مبینہ طور پر اپنے ہی دفتر میں خود کو گولی مار لی۔واقعے کے فوراً بعد پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور دفتر کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلورو کے پولیس کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا۔پولیس کمشنر کے مطابق انکم ٹیکس حکام دفتر میں موجود تھے جب سی جے رائے نے یہ انتہائی قدم اٹھایا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حتمی نتیجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔پولیس کے مطابق گزشتہ تین روز سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سی جے رائے اور ان سے منسلک کمپنیوں کے خلاف چھاپے مار رہا تھا، جن کے دوران مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثوں کے شواہد سامنے آئے۔ یہی پس منظر اس واقعے کو مزید حساس بنا رہا ہے۔
بنگلورو پولیس کمشنر نے بتایا کہ چھاپہ مار ٹیم کا تعلق ریاست کیرالہ سے تھا اور اس حوالے سے متعلقہ حکام سے تفصیلی گفتگو کی جائے گی تاکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا واقعہ خودکشی تھا یا کسی قسم کی اکسانے یا دباؤ کا عنصر بھی شامل تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سی جے رائے کے بھائی نے انکشاف کیا ہے کہ انکم ٹیکس حکام پہلی بار دسمبر میں بنگلورو پہنچے تھے، جبکہ دوسری بار 28 جنوری کو سی جے رائے کو دبئی سے واپس بلا کر پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد تفتیشی عمل میں تیزی آئی۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ سی جے رائے کا تعلق ریاست کیرالہ کے شہر کوچی سے تھا۔ وہ قیمتی اور لگژری گاڑیوں کے شوقین تھے اور ملیالم فلم انڈسٹری سے بھی وابستہ رہے، جہاں انہوں نے بطور پروڈیوسر متعدد فلمیں بنائیں۔
واقعے نے بھارتی کاروباری اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ انکم ٹیکس کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔