ویتنام میں 12 ارب ڈالر کے فراڈ کیس میں ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ٹرونگ مائی لین کی سزائے موت برقرار

ویتنام میں 12 ارب ڈالر کے فراڈ کیس میں ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ٹرونگ مائی لین کی سزائے موت برقرار

ویتنام میں 12 ارب ڈالر کے فراڈ کیس میں ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ٹرونگ مائی لین کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔

 اس کیس میں لین، جو ویتنام کی سب سے بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی "وان تھن فٹ ہولڈنگز" کی چیئرپرسن تھیں، پر مالی خرد برد اور بینکوں سے قرضوں کے جعلی اسکیموں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ان کی کمپنی نے ویتنام کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں 304 ٹریلین ڈونگ (12 ارب ڈالرز) کا نقصان پہنچایا۔ویتنام کی عدالت نے اس مالیاتی اسکینڈل کے حوالے سے لین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کی سزا سنائی۔ ان پر دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، اور غیر قانونی طور پر سرحد پار پیسے منتقل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں اکتوبر میں ایک دوسرے مقدمے میں عمر قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔

یہ فیصلہ ویتنام میں جاری کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا حصہ ہے، جہاں سینکڑوں اعلیٰ حکام اور کاروباری افراد کو کرپشن کے الزامات میں سزا دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ کارروائیاں ملک میں عوامی اعتماد کو بحال کرنے اور مالیاتی اداروں کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔