معاہدوں کے تقدس اور عالمی امن کے تحفظ کے موضوع پر پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک اہم نشست منعقد کی گئی، جس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔
یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت آریا فارمولا کے تحت منعقد ہوا، جس کا موضوع تھا:“بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے معاہدات کے تقدس کو برقرار رکھنا”۔اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل پینل نے بریفنگ دی۔ پینل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے قانونی امور کے ٹریٹیز سیکشن کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی شامل تھے۔اس کے علاوہ پینل میں انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سابق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر و سابق ڈین پروفیسر عادل نجم بھی شریک تھے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے طریقۂ کار لازمی نوعیت کے ہیں، اور ایسے معاہدات کو کمزور کرنا دنیا بھر میں مشترکہ وسائل، سرحدی نظم و نسق اور اعتماد سازی کے معاہدوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔