اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیتے ہوئے پاکستان، امریکا اور متعدد عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے غزہ کے لیے امن منصوبے کی حمایت میں پیش رفت کی ہے۔
عرب اسلامی ملکوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، یو اے ای، انڈونیشیا، اردن اور ترکی اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے جلد منظور کیا جائے۔اس قراردا د کا مسودہ ایسے وقت میں زیر غور ہے جب گزشتہ ہفتے امریکا نے سلامتی کونسل میں اس پر مذاکرات شروع کیے ہیں۔ یہ مسودہ دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد جنگ بندی کے بعد کے اقدامات سے متعلق ہے اور ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرتا ہے۔عرب اور مسلم ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ کوشش ایک مخلصانہ قدم ہے جو خطے میں امن اور استحکام کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ قرارداد کے مسودے میں غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام کا ذکر ہے، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، اور اس کا مقصد 2027 تک جاری رہنا ہے۔قرارداد رکن ممالک کو اختیار دیتی ہے کہ وہ عبوری عالمی استحکام فورس تشکیل دیں، جو اسرائیل، مصر، اور فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کو محفوظ بنائے اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ قرار دے۔ اس تازہ مسودے میں مستقبل میں ممکنہ فلسطینی ریاست کا بھی ذکر شامل ہے۔
دوسری جانب، روس نے سلامتی کونسل کو ایک متبادل مسودہ پیش کیا ہے، جس میں نہ تو غزہ میں بورڈ آف پیس کے قیام کا ذکر ہے اور نہ ہی فوری بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کا مطالبہ۔ اس مسودہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے راستے تلاش کریں اور ایک رپورٹ پیش کریں، جس میں غزہ میں امن فورس کی تعیناتی کے امکانات بھی شامل ہوں۔ابھی تک، یوں لگ رہا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان اس امن منصوبے کے بنیادی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے مسودے میں نگرانی، فلسطینی اتھارٹی کے کردار اور فورس کے اختیارات سے متعلق سوالات موجود ہیں۔