لاہور سانحے میں جاں بحق ماں اور بیٹی کی نمازِ جنازہ ادا

میرک سیال کے آبائی قبرستان میں سینکڑوں افراد کی مو جو دگی میں سپرد خاک
ایس ایچ او زین نے تشدد کیا ،وزیر اعلیٰ کے اقدامات پر مطمئن ہیں: غلام مرتضیٰ 
شورکوٹ (خصوصی رپورٹ)لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گائوں موضع آ یار جوتہ میں ادا کر دی گئی۔نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ میتیں آبائی علاقے منتقل کی گئیں، جہاں نمازِ جنازہ کے بعد دونوں کو میرک سیال کے آبائی قبرستان میں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں سپردِ خاک کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شورکوٹ صدف اکبر، ڈی ایس پی سرکل شورکوٹ محمد اکرم، تحصیلدار اور تحصیل انتظامیہ کے دیگر اہلکار بھی موجود تھے، تاہم ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام میں سے کوئی موقع پر نہ پہنچ سکا۔تدفین کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر اداروں کی جانب سے پھولوں کی چادریں مرحومین کی قبروں پر چڑھائیں۔ سانحے کے بعد علاقے میں تاحال سوگ کی فضا قائم ہے ، ہر آنکھ اشکبار تھی ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرحومہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے لاہور پولیس کے ایک ایس ایچ او زین کی جانب سے مبینہ تشدد کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے سانحے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔