داتا دربار کے نزدیک کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں ، بیٹی کی نماز جنازہ جھنگ کی تحصیل شورکوٹ کے آبائی گائوں اللہ یار جوتہ میں ادا کردی گئی
بیوی اور بیٹی کو مین ہول میں گرتے دیکھا‘ زبردستی قتل منوانا چاہتے تھے، ایس ایچ او اور ایس پی کہتے رہے تم جھوٹ بول رہے ہو‘ کزن کو بھی پکڑ لیا تھا: غلام مرتضی کا بیان
لاہور ،احمد پور سیال(آئی این پی)لاہور میں داتا دربار کے نزدیک کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں ، بیٹی کی نماز جنازہ ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ میں ان کے آبائی گائوں اللہ یار جوتہ میں ادا کردی گئی ۔نماز جنازہ میں ڈی ایس پی شورکوٹ چوہدری محمد اکرم ،چیف آفیسر میونسپل کمیٹی توصیف الرحمن ، سابق ایم پی اے چوہدری خالد غنی ، تحصیلدار شورکوٹ رائو شکیل اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔گزشتہ روز لاہور میں شورکوٹ کے موضع اللہ یار جوتہ کی خاتون 24سالہ سعدیہ اور9ماہ کی بیٹی ردا کھلے مین ہول میں گر کر لقمہ اجل بن گئی تھیں ۔ ماں بیٹی کا جنازہ اٹھنے پر علاقہ کی فضا سوگوار رہی ۔دوسری جانب لاہور بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضی نے کہا ہے کہ پولیس نے بیوی بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کرنے کیلئے تشدد کیا، پولیس زبردستی قتل منوانا چاہتی تھی۔ ایک بیان میں غلام مرتضی کہا کہ اس نے بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے جھوٹ بول رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا، موبائل بھی لے لیا تھا، بیوی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی اس کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا۔ غلام مرتضی کا کہنا تھا کہ جب واقعہ ہوا ایک بیٹا والدہ کے پاس تھا۔