سیفٹی آفیسرز سمیت 5 ملزموں کا جسمانی ریمانڈ،مالکان بھی گرفت میں آگئے
وزیر اعلیٰ کے نوٹس پر بھاٹی گیٹ کو محفوظ زون میں تبدیل کر دیا گیا
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب میں دل دہلا دینے والے سانحات پر مٹی پاؤ کلچر دفن کرنے کے عزم کے تحت سانحہ بھاٹی گیٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شدید برہمی رنگ لے آئی۔ واقعے میں ملوث نجی کمپنی ایس ایم ایس ڈیزائن اینڈ انجینئرنگ سسٹم کو فوری طور پر کام سے روک دیا گیا جبکہ تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نجی کمپنی کے ساتھ ساتھ غفلت برتنے والے سرکاری افسران کو بھی شامل کر لیا گیا ہیذرائع کے مطابق سانحہ بھاٹی گیٹ کی تفتیش اب صرف نجی کمپنی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اْن نااہل افسران کے گریبان تک بھی پہنچے گی جن کی غفلت اور چشم پوشی اس المناک حادثے کا سبب بنی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمپنی کی مجرمانہ غفلت اور بنیادی حفاظتی ایس او پیز سے سنگین انحراف حادثے کی اصل وجہ تھا۔پولیس نے بھاٹی گیٹ پر کام کرنے والی کمپنی کے سیفٹی آفیسرز سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں کمپنی کے مالکان عثمان یاسین اور سلمان یاسین کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مجرمانہ غفلت کے الزام میں سیفٹی آفیسر محمد حنزلہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہے۔گرفتار ملزمان میں اصغر علی، سیفٹی آفیسر حنزلہ، احمد نواز، اور کمپنی مالکان سلمان یاسین اور عثمان یاسین شامل ہیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق 2 سے 3 فروری تک موصول ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کیس کو مزید اہم پیش رفت کی جانب لے جائے گی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے سخت نوٹس کے بعد بھاٹی گیٹ کو ’ڈیتھ ٹریپ‘ سے محفوظ زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے بغیر کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سائٹ کو جدید سیفٹی پروٹوکولز سے آراستہ کیا جا رہا ہیوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ مٹی پاؤ کا دور ختم ہو چکا، پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا، ‘‘ہنستا بستا گھرانہ اجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا میرا مشن ہیوزیر اعلیٰ نے متاثرہ سعدیہ اور اس کی ننھی بچی کے زخموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہامعصوم سعدیہ اور اس کی ننھی پری کے زخم دیکھ کر دل لہو کے آنسو رویا، یہ زخم پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں۔’’