فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معلامات کو حل کیا، پاکستان اتنا مضبوط ہوگا بھارت کو غشی کے دورے پڑیں گے،پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیاں سمیٹیں:وزیراعظم

برآمد کنندگان  کیلئے ٹیکس میں3فیصد کمی صنعتوں کیلئے بجلی 4 روپے 4 پیسے سستی  تاجر وںسے مشاورت کے بعد معاشی پالیسیاں بنائینگے:شہبازشریف
 میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، لیکن میرے ہاتھ بندھے ہیں ،حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے  سازگار ماحول فراہم کرنا ہے  ،مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا
سیاسی و عسکری تعاون سے ملکی ترقی کی راہیں کھل رہی ہیں، معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے ، شفافیت کے عمل کو یقینی بنا کر نجکاری ہوگی،  پی آئی اے جلد  کھویا ہوا مقام حاصل کرے گی 
 ہم اصلاحات لا رہے ہیں اور اربوں کے اخراجات کم کر رہے ہیں،براہ راست ٹیکسز کل نہیں آج کم ہونے چاہئیں:وزیر اعظم کا  نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب  سے خطاب
اسلام آباد ( آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کی کمی اور  ایکسپورٹرز کیلئے ٹیکس ساڑھے 7 سے کم کر کے ساڑھے4 فیصد کرنے   اعلان  کرتے ہوئے کہا ہے حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے  سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری قوم نے قربانی دی ،مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،،  میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، لیکن میرے ہاتھ بندھے ہیں، فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معلامات کو حل کیا، پاکستان اتنا مضبوط ہوگا  بھارت کو غشی کے دورے پڑیں گے ۔   ان خیالات کااظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں ملک کے نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔  وزیراعظم   کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے، عظیم پاکستانیوں نے شبانہ روز محنت سے ایکسپورٹس میں میدان مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے، آپ لوگوں نے مشکل حالات میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیا، آپ نے خطرات مول لیکر پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کمائے، پوری قوم آپ تمام ایکسپورٹرز کی احسان مند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023 میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا اس وقت نیا اسٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارا دوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہو چکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکا کے صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرورعملدرآمد کریں گے، جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا آپ کیلئے شارٹ ٹرم پروگرام دے رے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی، پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے نقصانات برداشت کئے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں۔شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلئے دوست ممالک سے درخواستیں کیں، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سرہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کئے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہماری معیشت میں استحکام آچکا لیکن یہ کافی نہیں، آج پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے، آج کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر آیا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا