بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر حملے کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی شہری شریف الاسلام شہزاد نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، 30 سالہ شریف الاسلام شہزاد نے بیان میں کہا کہ "ہاں، میں نے یہ حملہ کیا ہے۔" اس واقعے کے بعد سے پولیس کی 70 گھنٹوں کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ملزم کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں سیف علی خان کے گھر سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنگلاتی علاقے کے ایک لیبر کیمپ سے گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاری ایک لیبر کنٹریکٹر کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے بعد 7 گھنٹوں پر محیط آپریشن کے دوران پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس افسران نے بتایا کہ شریف الاسلام شہزاد نے ابتدائی طور پر جرم کا اعتراف کیا اور اس کی تفتیش جاری ہے۔دوران تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ سیف علی خان کو حملہ کرنے کے ارادے سے ان کے گھر کے قریب پہنچا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید تفتیشی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ اس کے حملے کی وجوہات اور دیگر متعلقہ معلومات کو حاصل کیا جا سکے۔
شریف الاسلام کے وکیل نے گزشتہ روز ممبئی کی عدالت میں اس کی پیشی کے دوران موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے پاس سے کوئی قابلِ اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔ وکیل نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف سیلیبریٹی کے ملوث ہونے کی وجہ سے زیادہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور شریف الاسلام کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔عدالت نے ملزم شریف الاسلام شہزاد کو 5 روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے تاکہ اس کی مزید تفتیش کی جا سکے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اس کیس میں تفتیش جاری ہے اور مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ملزم کے مقاصد اور حملے کے پس پردہ حقائق کا پتہ چل سکے۔
یہ واقعہ ممبئی میں کافی ہلچل کا باعث بنا ہے اور سیف علی خان کے مداحوں میں تشویش پھیل گئی تھی، تاہم تفتیش کے بعد اس بات کا پتا چلا ہے کہ حملہ ایک انفرادی فعل تھا اور اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش نہیں تھی۔