ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) نے دسمبر 2024 میں تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا، جس کی مالیت 1330 ارب روپے رہی۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ جنوری 2025 میں ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 956 ارب روپے رکھا گیا تھا، تاہم 40 سے 50 ارب روپے کا شارٹ فال متوقع تھا۔ اس کے باوجود، حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنوری کے ہدف کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں، اور آئی ایم ایف کی نظر میں ٹیکس وصولی کا جائزہ ماہانہ کی بجائے سہ ماہی بنیادوں پر لیا جاتا ہے، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کی کارکردگی اور معیشت میں تیز رفتار ترقی کے امکانات کے پیش نظر، ایف بی آر اپنے ہدف کی تکمیل میں کامیاب ہو سکتا ہے۔آئی ایم ایف نے جنوری سے مارچ 2025 کے درمیان 3150 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے، اور اس دوران توقع کی جارہی ہے کہ مارچ میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں بھی بہتری آئے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2024 سے دسمبر 2024 تک ایف بی آر نے 5624 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، تاہم اس مدت میں مقررہ ٹیکس ہدف 6008 ارب روپے تھا، جس میں 384 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں معاشی حالات کے باعث اس شارٹ فال کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور یہ شارٹ فال آئندہ مہینوں میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے پورا ہو سکتا ہے۔