دسمبر 2024ء میں پاکستان کی ترسیلات زر میں 5.6 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا اور یہ 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اس دوران مالی سال 2025ء کی پہلی ششماہی میں مجموعی طور پر 17.8 ارب ڈالر ترسیلات زر کی آمد ہوئی، جو مالی سال 2024ء کی پہلی ششماہی کی 13.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں 32.8 فیصد زیادہ ہیں۔ترسیلات زر کی سب سے بڑی مقدار سعودی عرب سے آئی، جہاں مقیم پاکستانیوں نے دسمبر 2024ء میں 770.6 ملین ڈالر بھیجے، جو کہ پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی۔ متحدہ عرب امارات سے بھی ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جہاں 631.5 ملین ڈالر کی آمد ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ تھی۔
برطانیہ سے 456.9 ملین ڈالر کی ترسیلات زر آئیں، جو کہ نومبر 2024ء کے 409.9 ملین ڈالر سے 11 فیصد زیادہ ہیں اور سالانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امریکا سے بھی 284.3 ملین ڈالر کی ترسیلات زر آئیں، تاہم یہ رقم ماہانہ طور پر 1 فیصد کم ہوئی۔یورپی یونین سے بھی ترسیلات زر میں 11 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 360.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔یہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔