کراچی: سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلاب کو بعض اوقات پیسہ بنانے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلاب کے ساتھ امدادی کارروائیاں بھی آتی ہیں، مگر سندھ میں ایمرجنسی کے دوران مقامی حکومتوں کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف میں بلدیاتی ادارے غیر فعال ہیں۔علی خورشیدی نے بتایا کہ حب ڈیم سے نئی کینال بنائی گئی ہے جس کی گنجائش 100 ایم جی ڈی ہے، لیکن اگست کے بعد حب سے پانی کی مقدار کم ہوگئی ہے اور ضلع غربی میں پانی کی کمی برقرار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 90 فیصد سے زائد چوری میں واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ملوث ہے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم پر کام جاری ہے تاکہ کسی کی زمین بچانے کے لیے دوسرے کی زمین پر پانی نہ چھوڑا جائے، اور جہاں ضرورت پڑے احتجاج بھی کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سیلابی ریلا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تباہی مچانے کے بعد سندھ میں داخل ہوگیا ہے، دریائے سندھ کے سیہون مقام پر طغیانی ہے اور سیلابی صورتحال برقرار ہے۔