سعودی عرب نے شہریوں کی غیرملکیوں کے ساتھ شادی کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے

سعودی عرب نے شہریوں کی غیرملکیوں کے ساتھ شادی کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے

سعودی عرب کے وزیر انصاف ولید الصمعانی نے سعودی شہریوں اور غیر ملکیوں کے درمیان نکاح معاہدوں کے لیے نئے ضوابط کی منظوری دے دی ہے۔

سعودی شہری کی غیرملکی خاتون یا مرد کے ساتھ شادی کے لیے اجازت نامہ اور نکاح نامے کے اندراج میں آسانی فراہم کی جائے گی۔بغیر اجازت کے کیے گئے نکاح معاہدے سول سٹیٹس کورٹ میں قانونی طور پر پروسیس کیے جائیں گے۔نکاح نامے کی رجسٹری کے لیے وزارت داخلہ کی این او سی ضروری ہوگی۔نکاح نامے کی رجسٹریشن قانون کی شق 9 اور 11 کی خلاف ورزی پر نہیں ہوگی؛ شق 9 میں عمر کم از کم 18 سال اور شق 11 میں ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ذہنی طور پر کمزور یا پاگل شخص کی شادی کے لیے سرپرست کی درخواست پر اجازت دے سکتی ہے۔اس نئے اقدام کا مقصد خاندانوں کو مستحکم کرنا، نکاح اور متعلقہ پروسیجر کو قانونی اور دستاویزی شکل دینا اور شادی کے عمل کو واضح اور محفوظ بنانا ہے۔