ملک محمد احمد خان کی طرف سے سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ابھی تک سپیکر خیبرپختونخوا (کے پی) کا خط موصول نہیں ہوا، تاہم وہ پرامید ہیں کہ اس میں جمہوری اور آئینی باتیں درج ہوں گی۔
ملک محمد احمد خان نے سپیکر کے پی کے عوامی طبقے کے ساتھ آئینی گفتگو کرنے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ وہ خط پڑھنے کے بعد جواب دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سپیکر کے پی کی جانب سے بھیجے جانے والے خطوط کو محبت اور احترام کے ساتھ لینے کا بھی اظہار کیا۔علاوہ ازیں، ملک محمد احمد خان نے خیبرپختونخوا کی اہمیت اور وہاں کے عوام کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ ہر شخص پاکستان کا مالک ہے، اور یہ صوبہ ملک کا فخر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر مجاز افراد اور ہجوم کو کسی بھی سرکاری یا محفوظ جگہ پر داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خاص طور پر وہ لوگ جو پاکستان کے جھنڈے جلانے یا ملک پر حملے میں ملوث رہے۔مزید برآں، انہوں نے وزیراعلیٰ کے پی کو داخلے کی خصوصی اجازت دی، مگر یہ اجازت صرف محدود اور مجاز افراد کے لیے ہوگی۔