سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہو رہی ہے، جس میں ایک بھارتی شخص لندن کی انڈرگراؤنڈ ٹرین میں روایتی بھارتی لباس میں سموسے بیچتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔
ویڈیو کے مطابق یہ شخص لندن میں واقع ایک بہاری سموسہ ریسٹورنٹ کا مالک ہے، جس نے غالباً اپنی سیلز بڑھانے کے لیے یہ تخلیقی اقدام کیا۔ اس نے ٹرین کے مسافروں کو بتایا کہ اب لوگ کراسان نہیں بلکہ بہاری سموسے کھائیں گے، اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صرف بھارتی شہری اس کے سموسے خریدتے اور کھاتے ہیں۔انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے اس ویڈیو پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے بھارتیوں کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا، جبکہ بعض نے اس اقدام کو دلچسپ اور منفرد انداز کہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تخلیقی پروموشنل اقدامات عالمی شہروں میں چھوٹے ریسٹورنٹس کے لیے مارکیٹنگ کا نیا طریقہ بن سکتے ہیں، تاہم ثقافتی حساسیت کے پیشِ نظر اس پر تنقید بھی سامنے آ سکتی ہے۔