غزہ میں جاری شدید انسانی بحران کے تناظر میں دنیا کے 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے امدادی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزرائے خارجہ نے کہا کہ سردی اور مسلسل بارشوں نے انسانی حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ شدید سرد موسم نے بے گھر افراد، بچوں، خواتین اور بزرگوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔بیان کے مطابق اس وقت تقریباً 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں مکانات تباہ ہو چکے ہیں یا رہائش کے قابل نہیں رہے۔ علاوہ ازیں، 16 لاکھ سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انہیں خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، جو ایک بڑے انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ کی رفاہ اور دیگر تمام گزرگاہیں کھولنے اور امدادی سامان کی ترسیل میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امدادی راستے مکمل طور پر نہ کھولے گئے تو انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متحد ہو کر فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے اور غزہ کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔