پاکستان میں آن لائن مالی فراڈ، سالانہ تخمینہ آئی ایم ایف قرض پروگرام سے بھی زیادہ

 ہر 5 میں سے ایک شخص کو ایک سے زائد مرتبہ ڈیجیٹل سکیمز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، صارفین کو ہر سال 9 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے: گلوبل سٹیٹ آف اینٹی سکیمز رپورٹ
کراچی (آئی این پی )پاکستان میں ہر دوسرا شخص آن لائن مالی فراڈ کا شکار ہے۔ ہر 5 میں سے ایک شخص کو ایک سے زائد مرتبہ ڈیجیٹل سکیمز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔   اس مالیاتی دھوکا دہی سے صارفین کو ہر سال 9 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس فراڈ سے پاکستان کا سالانہ جی ڈی پی کا 2.5 فی صد حصہ ضائع ہو رہا ہے، جو آئی ایم ایف کے قرض پروگرام سے بھی 33 سے فی صد زیادہ ہے۔یہ انکشاف گلوبل اسٹیٹ آف اینٹی سکیمز رپورٹ 2025 میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے، جہاں مالیاتی فراڈ معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 39 فی صد شہری گزشتہ سال کسی نہ کسی آن لائن سکیم یا فراڈ کا شکار ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر متاثرین ٹیلی فون کالز، ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس فراڈ کا شکار ہوئے