سائنسدانوں کی پیشگوئی: 2025 میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے کا امکان، مقام بھی واضح

سائنسدانوں کی پیشگوئی: 2025 میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے کا امکان، مقام بھی واضح

ماہرِ ارضیات ولیم چاڈویک اور ان کے ساتھیوں نے حالیہ تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ 2025 کے دوران اوریگون کے ساحل سے 470 کلومیٹر دور، سمندر کی تہہ میں ایک آتش فشاں، جس کا نام Axial Seamount ہے، پھٹنے کے قریب ہے۔

یہ آتش فشاں تقریباً ایک کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے، اور اس کی سرگرمیاں گزشتہ دہائی کے دوران متواتر نگرانی کی جا رہی ہیں۔یہ آتش فشاں زمین کے سب سے زیادہ زیر سمندر تحقیق شدہ آتش فشاں میں سے ایک ہے، اور اس کی نگرانی میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں سمندری فرش پر کیبل کے ذریعے ڈیٹا کا تبادلہ، جھٹکوں کا ریکارڈ کرنا، سطح پر ابھار اور جھکاؤ کی پیمائش کرنا اور ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرنا شامل ہے۔ اس تحقیق میں ماہرین نے میگما کے جمع ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کو آتش فشاں پھٹنے کی علامت قرار دیا ہے۔

چاڈویک نے امریکی جیو فزیکل یونین کے اجلاس میں کہا کہ نومبر 2024 میں Axial Seamount کی سطح پر ہونے والے غیر معمولی ابھار نے ان کی توجہ حاصل کی۔ اس ابھار کی اونچائی تقریباً 2015 میں آتش فشاں کے پھٹنے کے قریب سطح پر پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ابھار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین میگما کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جو آتش فشاں کی سرگرمیوں میں شدت کا اشارہ ہے۔

مارک زمبرج، جو اسکریپس انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی میں ارضیاتی ماہر ہیں، نے کہا کہ یہ آتش فشاں کرہ ارض پر سب سے بہترین جانچے جانے والے زیر سمندر آتش فشاں میں سے ایک ہے، اور اس کی نگرانی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ Axial Seamount کی سرگرمیاں ایک نیا قدم ثابت ہو سکتی ہیں جو آئندہ آتش فشاں کی پھٹنے کی پیش گوئی کی بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔

اگر یہ آتش فشاں پھٹتا ہے، تو اس کے اثرات سمندری زندگی اور ساحلی علاقوں پر پڑ سکتے ہیں۔ سمندر کے نیچے آتش فشاں پھٹنے سے نہ صرف سونامی کا خطرہ ہو سکتا ہے، بلکہ زیر سمندر موجود زندگی کی مختلف اقسام بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، آتش فشاں کی سرگرمیاں ماحول میں میگما اور دیگر مضر مادوں کو خارج کر سکتی ہیں جو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔

اس آتش فشاں کی نگرانی پر جاری تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ زیر سمندر آتش فشاں کا پھٹنا ایک عالمی مسئلہ بن سکتا ہے، جس کے اثرات مقامی سطح سے لے کر عالمی سطح تک محسوس ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیق اور تیاری ضروری ہے تاکہ ممکنہ طور پر ہونے والے قدرتی آفات سے بچا جا سکے۔