ایتھوپیا کے تاریخی اور خاموش آتش فشاں ہیلی گُبی کے اچانک پھٹنے سے پیدا ہونے والی راکھ اور دھواں کے غبار نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
یہ واقعہ 12 ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے ساکت رہنے والے اس آتش فشاں کے اچانک فعال ہونے کا ثبوت ہے، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی راکھ کا بادل پاکستان سمیت یمن، عمان، بھارت اور دیگر ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے تقریباً 800 کلومیٹر دور افار ریجن میں واقع اس آتش فشاں نے اس بار بہت زیادہ قوت کے ساتھ پھٹ کر، 45 ہزار فٹ کی بلندی پر راکھ چھوڑ دی ہے۔ فرانس کے ادارہ اور پاکستان کے میٹ ڈیپارٹمنٹ کی معلومات کے مطابق، یہ راکھ کا بادل پاکستان کے سمندر کے اوپر گوادر کے جنوب میں 60 ناٹیکل میل کی دوری پر دیکھا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔پاکستان کے ہوا بازی کے محکمے نے بھی اس صورتحال پر الرٹ جاری کیا ہے۔ پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں 34 سے 36 ہزار فٹ اور بین الاقوامی پروازیں 40 سے 45 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتی ہیں، اور اس راکھ سے جہاز کے انجن متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ راکھ اور دھواں طوفانی اثرات کے سبب ہوائی سفر میں رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں اور فضائی آپریشنز کو متاثر کر سکتے ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ قدیم اور خاموش رہنے والے آتش فشاں بھی اچانک فعال ہو سکتے ہیں، جس سے ماحولیاتی اور فضائی خطرات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔ یہ واقعہ دنیا بھر کے ماہرینِ ارضیات کے لیے ایک چونکا دینے والا لمحہ ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی آفات کی پیشگوئی اور ان سے نمٹنے کے طریقے وقت کے ساتھ مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔