وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹھٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت پرامن دھرنوں کے خلاف نہیں ہے، مگر دھرنوں کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے، اور اگر لوگوں کو تکلیف ہوگی تو اس کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور اس کے نتیجے میں کچھ لوگ ناراض ہو سکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے پارا چنار کے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے پارا چنار کے متاثرین کی مدد کے لیے امداد بھیجی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں ترقی کا سفر جاری ہے اور اس میں حکومت کا کردار اہم ہے، خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے مسائل پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کے فور منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کی مین لائن کا فضائی جائزہ لیا ہے، اور اس منصوبے پر وفاق کے ساتھ مل کر کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سندھ حکومت حب کینال منصوبہ بھی شروع کر رہی ہے اور سندھ کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کے پانی کی کمی کا سبب بنے گا، اور سندھ حکومت اس کی سخت مخالف ہے۔