وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان میں را فنڈڈ لشکر اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اور نوجوانوں کو بہکا کر بے گناہ عوام کا خون ناحق بہا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن میں پارکس، اسکولوں، کالجز اور وکلاء کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ہم سینہ تان کر کھڑے ہیں اور دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ہمارا عزم یہ ہے کہ ریاست کو قیامت تک قائم رکھنا ہے اور ہمیں اس کا دفاع کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک سے وفاداری اور ایمانداری کے ساتھ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فورسز کو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والے فورسز کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور کہا کہ ان کے خون کی قیمت قوم کے لیے ہے۔ سرفراز بگٹی نے دشمن کو بزدل اور چالاک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورسز ان کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ شہداء کے اہل خانہ کی کفالت کی جا رہی ہے تاکہ ان کے دکھ درد کا کچھ ازالہ کیا جا سکے۔
مزید برآں، وزیرِ اعلیٰ نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کی عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاست کے ایک انچ کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اے ٹی ایف اسکول میں تھرمل کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ دہشت گردوں کی نگرانی کی جا سکے اور ان کے حملوں سے بچا جا سکے۔