یومِ آزادی پر بلوچستان میں دہشتگردی کی بڑی سازش ناکام، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

یومِ آزادی پر بلوچستان میں دہشتگردی کی بڑی سازش ناکام، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کے موقع پر بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ گرفتار شخص جشنِ آزادی کے دوران شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، لیکن بروقت کارروائی سے بلوچستان کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے جو بظاہر پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے۔ یہ شخص بچوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کا علاج بھی اپنے گھر پر کرتا رہا۔سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز، انسدادِ دہشتگردی کے محکمے اور پولیس کو کامیاب کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان اداروں کی بروقت حکمتِ عملی نے بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے ملزم کا ریکارڈ شدہ اعترافی بیان بھی جاری کیا۔ اس بیان میں ملزم نے بتایا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے جبکہ اس کی اہلیہ بھی سرکاری ملازم ہے۔ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ 2020ء میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ایک شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے تین افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد ازاں مارے گئے۔ بعد ازاں باقی افراد نے اسے تنظیم میں شامل کیا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔

اس کے مطابق تمام روابط ٹیلی گرام کے ذریعے استوار کیے گئے اور کوئٹہ پہنچنے کے بعد اس نے گروہ کی ہدایت پر تین کارروائیوں میں سہولت کاری بھی کی۔