پنجاب انشورنس ٹربیونل کے جج جسٹس (ر) علی اکبر قریشی کی مداخلت کے بعد ایک حادثے میں جاں بحق شخص کی بیمہ پالیسی کی رقم 18 لاکھ روپے اس کے دو یتیم بچوں کو فراہم کر دی گئی۔
کیس کی تفصیلات
حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے بچوں، حذیفہ سہیل اور شاہین سہیل نے انشورنس کمپنی کے خلاف دعویٰ دائر کیا تھا۔انشورنس کمپنی نے معذوری کے دوران بیمہ پالیسی کی رقم دینے سے انکار کر دیا تھا۔
رکاوٹیں اور قانونی جنگ
والد کی موت کے بعد بچوں کی پھوپھیوں نے بیمہ پالیسی کے کاغذات چھپا لیے، جس سے بچوں کو ان کے حق کے حصول میں مشکلات پیش آئیں۔بچوں نے انشورنس ٹربیونل سے رجوع کیا، جہاں جج نے انشورنس کمپنی کو طلب کیا اور مصالحتی عمل کے ذریعے بچوں کو ان کا حق دلوایا۔
عدالتی رہنمائی
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلے کی روشنی میں انشورنس ٹربیونل نے بچوں کے حق میں فیصلہ دیا۔
نتیجہ
انشورنس کمپنی نے 18 لاکھ روپے کی رقم دونوں یتیم بچوں کو ادا کر دی۔ یہ فیصلہ ایک اہم مثال ہے کہ کس طرح عدلیہ یتیم اور بے سہارا بچوں کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرتی ہے۔