2024کسانوں کے استحصال کا سال رہا

چودھری فرحان شوکت ہنجرا 

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ فرماتی ہیں پنجاب میں ہمارے دور حکومت میں ہم نے کسانوں کیلئے نت نئے منصوبوں کے ریکارڈ قائم کیے ہیں جبکہ ماضی میں صرف نعرے لگائے گئے 2024کاسنہرا اختتام مریم نواز شریف کا پنجاب سرسبز و شاداب پنجاب کا کاشتکار خوش اور خوشحال کسان کارڈ،گرین ٹریکٹر کارڈ،لائیو سٹاک کارڈ۔سپرسیڈرز،زرعی گریجویٹ انٹرنشپ پروگرام کے تحت ہر زرعی گریجویٹ کو ماہانہ 60ہزار روپے سکالرز شپ بھی ملے گی،ایگریکلچرل مال،8ہزار زرعی ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے جیسے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں پنجاب میں گندم کی کاشت کا 90فیصد ہدف حاصل کرلیا ہے کسانوں کو آسان قرضوں کے اجرا کیلئے پنجاب کسان بینک قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے پنجاب میں کاشتکاری کا رحجان بڑھ رہا ہے ماضی میں کاشتکار کیلئے صرف نعرے لگائے گئے تاہم ہمیشہ مسلم لیگ ن کی حکومت کاشتکاروں کیلئے خوشحالی کا باعث بنتی ہے ہم نے ثابت کیا کہ حکومت پنجاب کاشتکار بھائیوں کے ساتھ ہیہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنی حکومت کی زراعت کی ترقی بارے دعوے کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے تاہم اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو ابھی تک کسانوں اور زراعت کے فروغ و ترقی کے حوالے سے حکومت پنجاب نے جو اقدامات و انتظامی امور اپنائے ہیں پنجاب کے کسی کسانوں کے چہرے پر  مسکراہٹ، اطمینان سکون،  دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ کسانوں کے چہروں پر مایوسی کے آثار واضح دیکھنے کو ملے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے کہتی ہیں گندم کا 90فیصد کاشت کا ہدف حاصل کر لیا ہے جبکہ وزیر زراعت پنجاب کہتے ہیں گندم کاشت کا تمام ہدف حاصل کرلیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کہتی ہیں پنجاب میں کاشتکاری کا رحجان بڑھ رہا ہے دوسری جانب اس سال کپاس کی کاشت پچھلے سال کی نسبت پچاس فیصد کم رقبے پر کاشت ہوئی ہے  وزیر اعلیٰ کہتی ہیں ہمارے اقدامات سے کسان خوشحال ہوا ہے ہمیں تو ہیحقیقت معلوم 2024میں کسانوں سے گندم نہ خریدنے اور اگر خریدی بھی گئی توان سے اونے پونے داموں گندم خرید کر کسانوں کو کئی سو ارب کا نقصان پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پہنچایا گیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب نجانے کون سے ملک کے صوبے کے کسانوں کی خوشحالی کے شادیانے بجا رہی ہیں ابھی تک پنجاب حکومت نے گنے کی فی من قیمت مقرر نہیں کی اور کرشنگ سیزن شروع ہو چکا ہے اور شوگر ملز مافیا کسانوں کے گنے سے اپنی شوگر بنا رہے ہیں اور کسان حکومت اور عدالت عالیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں پنجاب حکومت کسانوں کے ساتھ کارڈ کارڈ کھیل رہی ہے اسے کہتے ہیں اونچی دکان پھیکا پکوان لہذا سال2024 پنجاب کے کسانوں کے استحصال اور ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے 
محکمہ اریگیشن پنجاب کسانوں کو کھیتوں تک پانی پہنچانے کیلئے مصروف عمل ہے لیکن ملک میں پانی سٹوریج کرنے کیلئے نئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے دریائے چناب میں پانی کی آمد کی کمی کے پیش نظر ہیڈ مرالہ ہیڈورکس میں پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہوئی ہیمحکمہ اریگیشن کے حکام اور پالیسی سازوں کو چاہئیے کہ دریائے جہلم اور دیگر چینلز کے زریعے دریائے چناب تک کوئی نئی لنک نہر نکالیں مثال کے طور پرجیسے ہیڈ مرالہ سے دریائے راوی میں پانی پہنچانے کیلئے ایم آر لنک مرالہ راوی لنک کینال نکالی گئی  اسی طرح دریائے چناب کے ہیڈ مرالہ مقام پر دریائے جہلم سے لنک کینال نکالی جائے جو ہیڈمرالہ کے مقام پر شامل ہو انگریز تو ہمیں نہری نظام دے گیا اب اس نظام کی آپ گریڈیشن کرنا ہمارے قومی اداروں کی زمہ داری ہے محکمہ اریگیشن کے افسران بالا اس جانب توجہ کریں اور پانی کی ترسیل کے حوالے سے نئی نہریں بنانے ہیڈورکس اور بیراجز کی توسیع منصوبوں ان کی آپ گریڈیشن اور برساتی پانی کو محفوظ اور اس کی سٹوریج کے حوالے سے منصوبہ بندی کریں 
ہم  سیکرٹری اریگیشن پنجاب واصف خورشید اور چیف انجینئر اریگیشن لاہور زون راشد منہاس سے التماس کرتے ہیں کہ ؤہ بی آر بی نہر کیضلع شیخوپورہ کے مقام مہتہ سوجا سے نکلنے والی مریدکے برانچ کینال اور سوہل مائینر کینال پر ایم اینڈ آر کے تحت تعمیر و مرمت کے منصوبوں کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے فنڈز کا فی الفور اجراء￿  کروائیں تاکہ ان نہروں میں پانی آنے سے قبل ان نہروں پر تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہو اس ضمن میں ایس سی یو سی سی میاں عامر ممتاز وٹو صاحب اور ایکسیئن شاہدرہ ڈویڑن حافظ محمد علی صاحب اور ایس ڈی او مریدکے احسن جمیل صاحب بڑی دل جمعی سے نہروں کی بحالی، ٹیلوں تک پانی پہنچانے اور پانی چوری کے تدارک کیلئے اپنے فرائض منصبی احسن انداز میں ادا کر رہے ہیں اور ایکسیئن آپریشن ٹو چیف انجینئر فیضان لیاقت صاحب بھی سائلین کی دادرسی  بھرپور انداز میں قومی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کسانوں کو ان کا جائز حق دلانے کیلئے کسان تحریک کا آغاز کردیا ہے اور ضلع منڈی بہاوالدین کی تحصیل پھالیہ میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے ببانگِ دہل کہا ہے کہ  مافیا اور حکمرانوں نے عوام کا جینا مشکل کر دیاہے حکومت گندم اور گنا کی امدادی قیمت کا اعلان کرے۔ چولستان میں زمینیں کس میرٹ پر تقسیم ہو رہی ہیں؟ کارپوریٹ فارمنگ سے عام کسان برباد ہو جائے گا، کسانوں کے حقوق کی تحریک کا آغاز کر دیا، اسے پورے ملک میں پھیلائیں گے۔ آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی احتجاج کا آغاز کیا جائے گا، عوام بڑی کال کے لیے تیار رہیں حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  کسان کا بچہ تعلیم سے محروم ہے، ملک میں طبقاتی نظام تعلیم ہے، پورا نظام استحصالی ہے، حکمران عوام کو بنیادی حقوق تک دینے کو تیار نہیں، اپنی تنخواہوں میں اضافے کر رہے ہیں، غریب اور متوسط طبقات کے پاس بجلی اور گیس کے بلوں اور بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کے بعد اشیائے خورونوش خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، پنجاب اسمبلی میں بیٹھے نام نہاد عوامی نمائندوں نے اپنی تنخواہوں میں ہزار گنا اضافہ کر لیا۔ پنجاب حکومت نے کسانوں کا استحصال کیا، کسانوں سے گندم نہیں خریدی گئی، حکومتی دعوؤں کے باوجود اس دفعہ کسانوں نے خوف کی وجہ سے کم رقبہ پر گندم کاشت کی ہے، حکمران کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے زراعت پر سبسڈی نہیں دے سکتے، ان سے پوچھتے ہیں کہ آئی ایم ایف تو تمھیں جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے اور شاہ خرچیاں کم کرنے کا بھی کہتا ہے،وہاں شرائط کہاں جاتی ہیں؟ حکمرانوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کسانوں کو حقوق دینا پڑیں گے، محروم طبقات متحد ہو جائیں، یہ تقسیم رہے تو کبھی حقوق حاصل نہیں کر سکتے جماعت اسلامی کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، ہم عوامی کمیٹیاں بنا رہے ہیں، کسانوں، مزدوروں اور تمام طبقات سے کہتا ہوں جماعت اسلامی کی کمیٹیوں میں شامل ہوں، اس وقت ہم ایوان میں نہیں ہیں، اپنے حقوق کے لیے ایوانوں کا گھیراؤ کریں گے۔
ادھر جماعت اسلامی کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین  کسان بورڈ وسطی پنجاب کے صدر رشید منہالہ کسانوں کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے اپنی ٹیم کے ساتھ پوری طرح متحرک ہوکر ڈویڑنل و ضلعی ہیڈکوارٹرز پر کسانوں سے ملاقاتیں اور کسان بیٹھک کر رہے ہیں اور اگلا کسان کنونشن جو وہاڑی میں منعقد ہونا ہے اس حوالے سے جنوبی پنجاب کے اضلاع کے دورے کر رہے ہیں کسان بورڈ پاکستان نے حکومت کی جانب سے گنے کی قیمت مقرر نہ کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ بھی دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت عالیہ نے حکومت پنجاب کو نوٹس اور وکلاء￿  کو حتمی دلائل دینے کا حکم دے دیا ہے۔