استحصال کی قیمت: ہجرت کی لہر

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
شام اور یمن میں جاری لڑائی کو  سلسلہ اب رک گیا ہے۔ شام ایک مرتبہ پھر اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کیلئے اپنی تگ ودو میں مصروف ہے۔ یمن میں بھی جنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے لیکن ابھی تک گروہوں کی تفریق باقی ہے۔ان دونوں ممالک کے حالات کی بہتری کیلئے  عرب ممالک کو اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہوگا۔ یورپ سے اسلحے کی کھیپیں اس خطے میں بھیجی جارہی ہیں۔ بلقان کا خطہ اس حوالے سے نمایاں ہے۔ اگر شام اور یمن  سمیت میں خطے کو حقیقی معنوں میں پرامن بنانا ہے تو لازم ہے کہ سعودی عرب، کویت اور دیگر متمول اور با اثر ممالک اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک ان دونوں ممالک میں لڑائی ختم نہیں ہوگی تب تک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی واقع نہیں ہوگی۔ نائن الیون کے بعد جارج بش جونیئر نے انتہائی ناانصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان اور عراق کو نشانہ بنایا اور دونوں ممالک کو تباہی سے دوچار کردیا۔ تب سے اب تک دونوں ممالک میں دہشت گردی کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ 
نائن الیون کے بعد جارج بش جونیئر نے انتہائی ناانصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان اور عراق کو نشانہ بنایا اور دونوں ممالک کو تباہی سے دوچار کردیا۔ تب سے اب تک دونوں ممالک میں دہشت گردی کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ افغانستان پہلے ہی تباہ حال تھا۔ نائن الیون کے بعد اس کی تباہی کا دائرہ پھیل گیا۔ دوسری طرف عراق مجموعی طور پر پرسکون ملک تھا مگر جارج بش جونیئر نے یورپ کے ساتھ مل کر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہنستا کھیلتا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔ عراق کی تباہی سے لیبیا کی تباہی کی راہ بھی ہموار ہوئی اور یوں مشرق وسطی میں عدم استحکام کا دائرہ پھیل گیا۔ ساتھ ہی ساتھ شمالی افریقا میں بھی خرابیوں کا آغاز ہوا۔
افریقا میں پسماندگی اور خرابی بہت زیادہ ہے۔ یورپ چونکہ جڑا ہوا خطہ ہے اس لیے آنے والے برسوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس وقت افریقا کی آبادی ایک ارب بیس کروڑ ہے۔ 2050ء تک افریقا کی آبادی ڈھائی ارب تک پہنچے گی۔ اگر پسماندگی دور نہ کی گئی اور معیشتوں کو مستحکم کرنے پر توجہ نہ دی گئی تو افریقا سے یورپ کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہے گا اور یوں انسانی المیے جنم لیتے رہیں گے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یورپ میں شرح پیدائش گھٹتی جارہی ہے۔ بیشتر یورپی اقوام کو گھٹتی ہوئی آبادی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ شمالی افریقا سے آنے والوں کو روکنے کیلئے یورپ کو زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کرنا ہوگی۔ یہ سب کچھ ایسا آسان نہیں جیسا سوچا اور کہا جارہا ہے۔ یورپ کو سب سے پہلے تو افریقا کے قدرتی وسائل کی بندر بانٹ روکنا ہوگی۔ اس وقت یورپ کے بہت سے ادارے افریقی قدرتی وسائل کو آنکھ بند کرکے بٹور رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں افریقا کے لوگوں میں یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ جنہوں نے ہمارا برا حال کیا ہے انہی کی طرف نقل مکانی کی جانی چاہیے۔ یورپ کو افریقا میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور دوسری طرف یورپی منڈیاں افریقی مال کیلئے کھولنی چاہئیں تاکہ افریقی معیشتیں خاطر خواہ حد تک پنپ سکیں۔ جب افریقا میں معیشتیں مضبوط ہوں گی اور لوگوں کو بہتر زندگی بسر کرنے کے مواقع ملیں گے تو وہ کہیں بھی جانے سے گریز کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ یورپ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں جنگ سے تباہ حال ممالک میں اسلحے کی فراہمی جاری نہ رہے۔ بالخصوص یمن میں متحارب دھڑوں کو اسلحے کی فراہمی روکنا ہوگی۔ افریقا سے ہر سال لاکھوں افراد موسم کی تبدیلی کے باعث بھی یورپ کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کیلئے ارب یورو مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ قانونی طریقے تلاش کرنے پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کی ضرورت ہے اور یہ کہ معاملہ کرائسز مینجمنٹ سے ایک قدم آگے بڑھ کر کرائسز پریوینشن کا ہے۔ افریقا سے آنے والوں کو روکنے کی ایک اچھی صورت یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہ یورپ کی طرف نہ آئیں۔ یعنی انہیں ان کے گھر میں بہترین امکانات سے ہمکنار کیا جائے۔
ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یورپ کے مقابلے میں مشرق وسطی اور افریقا کو انتہائی پسماندہ اور وحشی معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی خطہ پیچھے رہ گیا ہے تو اسے پسماندگی کا طعنہ دینے کے بجائے اس کی مدد کی جانی چاہیے۔ انہیں وحشی اور جاہل قرار دینے سے معاملات صرف بگڑیں گے۔ اس حوالے سے سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ باصلاحیت خطوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ بھی عالمی سطح پر ترقی کے عمل کا حصہ بن سکیں اور اس دنیا کو زیادہ سے زیادہ قابلِ سکونت بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ یورپ کو الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی ترک کی جانی چاہیے۔ یورپ نے فقید المثال ترقی کی ہے تو بہت کچھ بھلا بھی دیا گیا ہے۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے یورپ ہزاروں سال سے ایسا ہی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ مشرق وسطی اور افریقا کے متعدد ممالک بھی علم و فن میں آگے رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور مشرق وسطی علم و فن کے حوالے سے منور تھا۔ اس حقیقت کو کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پانچ سو سال پہلے یورپ بھی جہل کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یورپ کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ انہیں یہ سوچتے رہنے سے گریز کرنا ہوگا کہ وہ بہت برتر ہیں اور باقی سب کمتر اور جاہل ہیں۔ کمزور خطوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے وقت انہیں یاد رہنا چاہیے کہ وہ  خود بھی کسی زمانے میں ایسے ہی تھے۔ اور یہ کہ اس زمانے کو گزرے ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔