محنت کش استحصال کا شکار

زاہد خان کاکڑ
دنیا بھر میں یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں محنت کش آج بھی استحصال کا شکار ہیں اور محنت کش کو اس کے جائز معاوضے سے بھی محروم رکھا جاتا ہے پاکستان میں محنت کش بڑی مشکل کی زندگی گزار رہا ہے اداروں کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں روز بہ روز محنت کش بے روزگار ہو رہے ہیں جس طرح ایک محنت کش پاکستان میں زندگی گزار رہا ہے وہ بہت مشکل زندگی ہے پرائیویٹ سکولوں میں آج بھی 10 ہزار 15 ہزار پر ٹیچر نوکری کر رہا ہے اور کبھی کسی حکومت نے ان کے بارے میں کچھ نہیں کیا دکانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے بارے میں بھی حکومت نے کبھی کچھ نہیں کیا 
سیاسی پارٹیوں کی لیبر ونگ صرف اور صرف یکم مئی پر پروگرام کرتے ہیں  اور سال پر اپنی پارٹیوں سے مزدوروں کے نام پر اپنی ذاتی کام کرواتے ہیں حکومت بدلتی ہے لیکن محنت کش کی تقدیر نہیں بدلتی۔مزدور خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں  اور مزدور کے لیڈر ان کے نام پر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں مزدوروں کے بچے کم عمری میں ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں
پچھلے دنوں ہائی کورٹ میں ایک واقعہ رونما ہوا کہ ایک مزدور نے اپنے آپ کو آگ لگا لی اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا عدالتوں میں کئی کئی سال تک مزدوروں کے کیس چلتے رہتے ہیں اس دوران ان کے گھر کے کیا حالات ہوتے ہیں ان کا شاید آپ کو اندازہ بھی نہ ہو۔حالات کی وجہ سے یہی لوگ خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں واسا میں بھی ورک چارج ملازمین بھرتی کیے جاتے ہیں اور  کئی کئی سال تک ان کو ورک چارج ہی رکھا جاتا ہے اس طرح یہ ذہنی پریشانی کا شکار رہتے ہیں ان کو ذہنی غلام بنا کر رکھا جاتا ہے تین تین ماہ کے آرڈر کیے جاتے ہیں اور بیوروکریٹ ان پر حکومت کرتے ہیں بیوروکریٹ دکھاوے کے لیے آپنی یونین بناتے ہیں اور ان ٹاؤٹ لیڈروں کے ذریعے مزدوروں کو دبا کر رکھتے ہیں لیکن اس پر سیاسی جماعتوں کے لیبر ونگ بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ یہ مزدوروں کی نمائندگی نہیں کرتے صرف اور صرف اپنی ذاتی کام کرواتے ہیں یکم مئی کی حقیقت کیا ہے انیسویں صدی کے نصف میں روس میں مزدوروں سے روزانہ کی بنیاد پر 20 گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اور ان کو مزدوری بہت کم دی جاتی تھی اس سے ان کا گزارا بہت مشکل تھا اور اسی طرح امریکہ میں مزدوروں سے سولہ سولہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا 
اس کے خلاف  مزدوروں نے ایک تحریک کا اعلان کیا جس تحریک کو خلاف ضابطہ قرار دے کر کچل دیا گیا پھر دوسری مرتبہ   امریکی مزدوروں نے یکم مئی 1886 میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سرمایہ داروں کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا اور  مزدور نعرے لگا رہے تھے "اوقات کار میں کمی کرو اور اجرت میں اضافہ کرو کہ ہم زندہ رہ سکیں" 
ہڑتال کا اغاز یکم مئی سے ہوا اور تین مئی کو پولیس نے سرمایہ داروں کے حکم پر مزدوروں پر فائر کھول دیے اور اس میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے چار مئی کو مزدوروں نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے سوگ میں جلوس نکالا اور ایک بہت بڑی تعداد شگاگو مارکیٹ کے چوراہے پر جمع ہو گئی فوج اور پولیس نے مل کر ان پر فائر کھول دیے اور ان مزدوروں کے خون سے شگاگو کی سڑکیں اور دیواریں سرخ ہو گئی اور ان کے ہاتھوں میں پکڑے سفید رنگ کے پرچم کا رنگ بھی مزدوروں کے خون سے سرخ ہو گیا اور ان مزدوروں کی قربانیوں کی وجہ سے مزدوروں کی اجڑت بڑھی اور مزدوروں کا ٹائم آٹھ گھنٹے مقرر ہوا اور اسی وجہ سے ہم یکم مئی کو شکاکو کے مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں