رائے ونڈ جل رہا ہے: پچیس سال کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا انکشاف

محمد کاشر زمان
رائے ونڈ ایک ایسا شہر ہے جو دنیا بھر میں سالانہ تبلیغی اجتماع کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ پچھلے پچیس برسوں میں رائے ونڈ کا مرکز ریلوے کوریڈور — یعنی وہ علاقہ جہاں مرکز مسجد، بازار اور ریلوے لائن ایک ساتھ موجود ہیں — خاموشی کے ساتھ پنجاب کے سب سے زیادہ گرم اور آلودہ شہری علاقوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔ اور اب ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا نے اسے ثابت کر دیا ہے۔
ناسا کے سیٹلائٹ سے لی گئی پچیس سالہ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ رائے ونڈ کا یہ علاقہ پاکستان کی قومی اوسط سے گیارہ اعشاریہ چھ (11.6) گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ جون دو ہزار بائیس میں اس علاقے کی زمینی سطح کا درجہ حرارت پینتالیس اعشاریہ پچاسی (45.85) ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جبکہ شہر سے چند کلومیٹر دور کھیتوں کا درجہ حرارت پینتیس اعشاریہ اکتالیس (35.41) ڈگری سیلسیس تھا۔ یعنی ایک ہی شہر کے اندر اور باہر چار ڈگری سے زیادہ کا فرق پایا گیا۔
سائنس کی زبان میں اسے "اربن ہیٹ آئی لینڈ" (Urban Heat Island) کہتے ہیں — یعنی شہر ایک گرم جزیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جہاں گرمی باہر نکلنے کی بجائے اندر ہی قید ہو جاتی ہے۔ رائے ونڈ میں یہ کیفیت اب کوئی نئی یا ابھرتی ہوئی صورتحال نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مستقل اور بگڑتی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔
اس جان لیوا گرمی کی سب سے بڑی وجہ وہ چیز ہے جو رائے ونڈ میں اب نظر نہیں آتی — یعنی درخت، سبزہ اور ہریالی۔ ناسا کے سیٹلائٹ نے جب اس علاقے میں سبزے کی پیمائش کی تو نتیجہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے میں سبزہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے؛ وہاں ننگی چھتوں، کنکریٹ کی سڑکوں اور اسفالٹ کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ اس کے مقابلے میں شہر سے باہر کھیتوں میں سبزہ چار گنا زیادہ پایا گیا۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جن سالوں میں سبزہ کم تھا، انہی سالوں میں گرمی زیادہ تھی، یعنی درختوں کا کٹنا اور پارکوں کا نہ ہونا براہِ راست اس گرمی کا سبب ہے۔
فضا کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کے سیٹلائٹ نے رائے ونڈ کی فضا میں گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی زہریلی گیس "نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ" کی پیمائش کی تو معلوم ہوا کہ یہ گیس عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقرر کردہ محفوظ حد سے تین سے پانچ گنا زیادہ ہے، اور یہ صورتحال ہر سال یکساں رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب 2020 میں کورونا کی وجہ سے سڑکیں سنسان ہو گئیں تو اس زہریلی گیس کی مقدار اپنی کم ترین سطح پر آ گئی۔ جیسے ہی ٹریفک واپس آئی، آلودگی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ رائے ونڈ کی فضائی آلودگی کوئی موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ٹریفک اور سبزے کی غیر موجودگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
یہ گرمی اور آلودگی سب سے زیادہ کن لوگوں کو متاثر کرتی ہے؟ وہ بچے جو اسکول جاتے ہیں، وہ دکاندار جو سارا دن باہر بیٹھتے ہیں، اور وہ بیس لاکھ زائرین جو ہر نومبر مرکز کی طرف پیدل چلتے ہیں۔ دنیا بھر کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو بچے سبز جگہوں سے محروم ماحول میں پلتے ہیں ان میں بڑے ہو کر ذہنی بیماریوں کا خطرہ پچپن فیصد (55%) تک زیادہ ہوتا ہے۔ ان کی یادداشت، توجہ اور ذہنی نشوونما بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی دور کی کہانی نہیں بلکہ یہاں کے بچوں کی روزمرہ زندگی کا المیہ ہے۔

سیٹلائٹ کا ڈیٹا صاف بتاتا ہے کہ رائے ونڈ کی یہ صورتحال کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ جب زمین پر کنکریٹ بچھائی جاتی ہے، درخت کاٹے جاتے ہیں اور پارک نہیں بنائے جاتے تو شہر جلنے لگتا ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ مقامی ہے، اس لیے اس کا حل بھی مقامی ہے۔ ریلوے کے کنارے پر چھوٹے پارک بنانا، اور گلی محلوں میں سبزہ لگانا — یہ سب کام نہ صرف ممکن ہیں بلکہ انتہائی ضروری ہیں۔ جو شہر اپنی قومی اوسط سے گیارہ گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہو، جہاں فضا زہریلی ہو، اور جہاں بچوں کو کھیلنے کے لیے قبرستان جانا پڑے — وہ شہر صرف کنکریٹ کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔ ڈیٹا موجود ہے، زمین موجود ہے؛ اب فیصلہ رائے ونڈ کے لوگوں اور یہاں کی حکومت کو کرنا ہے۔