ڈاکٹر جمشید نظر
سال2019 کے آخری دنوں کی بات ہے سری نگر کے نواحی گاؤں میں صبح کے وقت ایک پندرہ سالہ لڑکا اپنی بیمار ماں کے لیے دوائی لینے نکلا۔ابھی وہ کچھ ہی دور گیا تھا کہ بھارتی قابض فوج کی ایک گاڑی رُکی اوراندھادھندگولیوں چلانا شروع کردیں۔ لڑکا جو اپنی ماں کے لئے دوائی لینے نکلا تھا وہ گولیوں کی زد میں آگیا۔ گولیوں کی تڑتڑاہت بند ہوئی تومحلے والوں نے اس کے آخری الفاظ سنے ’’ کشمیر آزاد ہوکر رہے گا‘‘ اس کے ساتھ ہی لڑکے نے ہچکی لی اور شہید ہوگیا۔کسی کو باہر نکلنے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ گاؤں میں کرفیو لگا تھا اور باہر نکلنے کا مطلب موت تھا۔آٹھ گھنٹے تک لڑکے کی لاش سڑک پر پڑی رہی، گاؤں کی عورتیں چپکے چپکے روتی رہیں لیکن کوئی اس ماں کی گود خالی کرنے والے بیٹے کو اٹھا نہ سکا۔شام ڈھلے جب بھارتی فوج کی گاڑی چلی گئی توکچھ نوجوانوں نے ہمت کی، کپڑا لائے اور خون میں لت پت لاش کوخاموشی سے اٹھایا اورچپکے سے جنازہ پڑھ کر دفن کردیاکیونکہ مقبوضہ کشمیر میں جنازے بھی بغاوت شمار ہوتے ہیں۔ادھرجب لڑکا دیر رات تک گھر نہ پہنچا تو بیمار ماں کے دل کو پتہ چل گیا کہ اس کا آخری سہارا بھی دنیا سے جاچکا ہے،اب تو اس کی آنکھوںکے آنسو بھی خشک ہوچکے تھے کیونکہ قابض بھارتی فوج نے پہلے ہی اس کے شوہر سمیت گھر کے دیگر مردوں کوباری باری شہید کردیا تھا۔
یہ واقعہ محض ایک لڑکے کی شہادت نہیں تھی بلکہ یہ پوری کشمیری قوم کا استحصال تھا، ایک سوال تھا کہ کیا انسانوں کی سرزمین پر زندگی اتنی ارزاں ہو گئی ہے؟ نریندر مودی نے انڈیاکاوزیراعظم بنتے ہی نعرہ لگایاتھا’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ لیکن پانچ سال بعد مودی نے آئینِ ہند کو اپنی جوتی تلے روندتے ہوئے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے نہ صرف اپنے ہی ملک کے آئین کا گلا گھونٹا بلکہ فکری دہشت گردی بھی کی۔5 اگست یوم سیاہ نہیں بلکہ یہ دن بھارت کے لیے یوم شرم بھی ہے اس دن بھارت نے نہ صرف جمہوریت کی چادر تار تار کی بلکہ ایک قوم کے اجتماعی شعور پر حملہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر کو لاک ڈاؤن کر کے نوے لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر کے، انٹرنیٹ، موبائل،اخبار، سب بند کردیا، بھارت نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہاں اب گاندھی کا بھارت نہیں بلکہ مودی کا انڈیا ہے۔
جولائی 2025تک بھارتی افواج 96 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔گذشتہ ماہ جولائی میں سات کشمیری شہید کئے گئے۔شہید کشمیری بچوں کی مائیں آج بھی ان کے جوتے، ان کی کتابیں، ان کی خوشبو سنبھال کر بیٹھی ہیں۔ یہ وہ ظلم ہے جسے کاغذ کی سیاہی میں لکھا نہیں جا سکتا ۔قابض بھارتی انتظامیہ کشمیریوں کے گھر،زمین،دکانیں اور زرعی زمینیں ضبط کررہی ہے۔’’کرسٹوف زیفرلے‘‘ جو کوئی پاکستانی یا مسلمان نہیں بلکہ ایک غیر جانبدار مغربی اسکالر ہے وہ بھی چیخ اُٹھا ہے کہ ’’جموں و کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ اور بابری مسجد پر رام مندر کی تعمیر انڈیا کو ہندو راشٹر بنانے کی کھلی سازش ہے‘‘۔
5 اگست کو پاکستان میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ریلیاں، واکس، سیمینارز اور تقاریب ہوتی ہیں،اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں، ٹی وی چینلز پر ڈاکومنٹریز پیش کی جاتی ہیںلیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کافی ہے؟ کیا صرف شمعیں جلانے سے ظلم ختم ہو جائے گا؟ کیا بینرز، پوسٹرزاور نعرے کشمیری ماؤں کے زخم بھر دیں گے؟کشمیر اب ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے۔ یہ تحریک صرف زمین کی نہیں،شناخت کی، بقاء کی اور عزت کی ہے اور اگر کوئی پوچھے کہ کیا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے؟تو ہمارا جواب صرف نعرہ نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں، ان کے زخموں کا درد ہمیں اپنی رگوں میں محسوس ہوتا ہے،ان کی شہادتیں ہمیں جھنجھوڑتی ہیں،ان کی دعائیں ہمارے قافلے کا چراغ ہیں۔پاکستان کا ہر شہری دنیا کے ہر فورم پر یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔کیونکہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ یہ ہماری روح کا حصہ ہے اور روحیں الگ نہیں ہو سکتیں۔