وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا اپنا ایجنڈا صرف اپنی ذات تک محدود ہے اور مفاہمت یا مذاکرات کے لیے کوئی واضح بنیاد موجود نہیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ تصادم کی، اور اگر ان کی پارٹی پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے گی تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں کوئی پیش رفت کر سکے گی۔انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر گزشتہ دو سال سے وفاق پر حملے کی دھمکیاں دینے اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی لگایا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوان شہید ہوئے لیکن پی ٹی آئی کے کوئی لیڈر شہدا کے گھروں نہیں گئے، لہذا ان کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے 9 مئی کے واقعے کی کبھی کھل کر مذمت نہیں کی اور نہ ہی عوام سے معذرت کی، اور بعض لوگ اب بھی اسمبلی میں بیٹھ کر لوگوں کو اکساتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا رویہ دہشت گردی کو فروغ دینے والا ہے اور اس حوالے سے پی ٹی آئی ہمارے ساتھ نہیں کھڑی رہی۔