وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ کے اجلاس میں بتایا کہ وفاقی وزیروں کی تنخواہ تقریباً 2 لاکھ روپے ہے۔
اس کے علاوہ، وزیر کو 1500 سی سی گاڑی اور 400 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے، لیکن 95 فیصد وزیروں کی تنخواہ نہیں لی جاتی اور وہ اپنے بجلی اور گیس کے بل خود ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری مراعات وزیرِ اعظم اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو نہیں دی جاتی ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ اگر تنخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے، تو پارلیمنٹ خود معاشی مشکلات کی وجہ سے اس کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے رکنِ قومی اسمبلی کی تنخواہ بھی ذکر کی جو 1 لاکھ 56 ہزار روپے ہے، اور یہ کہ پارلیمنٹیرین کو کوئی سرکاری گاڑی نہیں دی جاتی، تاہم انہیں 8 ہزار روپے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں دیے جاتے ہیں۔وقفہ سوالات میں وزارتِ داخلہ نے ایک تحریری جواب ایوان میں پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ گزشتہ دو سال میں نادرا نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی۔ البتہ، 2022ء میں 35 گاڑیاں خریدی گئیں، جن میں بسیں اور کوچز شامل ہیں جو پک اینڈ ڈراپ اور آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔