امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں قطر کی ثالثی کے باوجود تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔
رپورٹ کے مطابق قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ ملاقات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ ایک سمجھوتے کی تجویز پر غور کیا گیا، جس کا مقصد ایران کے آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر رعایت کے مطالبے کو ایک ہی فریم ورک میں لانا تھا۔عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث نے امریکی حکام سے بھی رابطے کیے۔ ان رابطوں کا مقصد آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم اختلافی معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان قابلِ قبول درمیانی راستہ تلاش کرنا تھا۔ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو سفارتی عمل سے مشروط کرتے ہوئے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے اور وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا، تاہم بعد میں امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی۔امریکی مؤقف کے مطابق کسی بھی جامع معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ تہران آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے معاملات کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق قطر کے علاوہ دیگر علاقائی ثالث بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آیا جس سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت یا بنیادی اختلافات کے خاتمے کی تصدیق ہوسکے۔