امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے اہم پیش رفت، قطر کا ثالثی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان

امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے اہم پیش رفت، قطر کا ثالثی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان

دوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی اور ثالثی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

 قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کے مطابق قطری وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دوحہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کے لیے مسلسل کام کررہا ہے۔ قطر کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار نہ کریں اور صورت حال کسی بڑے تصادم کی جانب نہ بڑھے۔

مذاکرات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ
شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے اب تک نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دے سکتی ہیں اور دونوں ممالک کسی قابلِ قبول تصفیے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔قطری وزیراعظم کے مطابق دوحہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے، تاکہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکے۔

امریکی انتخابات کے بعد بھی سفارتی حل کی امید
قطری وزیراعظم نے امریکی وسط مدتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بعد بھی واشنگٹن مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی برقرار ہے اور انتخابی عمل کے باوجود سفارتی کوششوں کے امکانات متاثر نہیں ہوئے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور دونوں ممالک کسی حتمی سمجھوتے کے لیے مزید پیش رفت کرسکیں گے۔

خطے کو بڑے تصادم سے بچانے کے لیے قطر کا کردار
قطر طویل عرصے سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور خطے میں کشیدگی کے تناظر میں دوحہ کی کوششیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔قطر کی حالیہ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنا، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے محفوظ رکھنا ہے۔تاہم قطری وزیراعظم نے اپنے بیان میں مجوزہ معاہدے کی ممکنہ شرائط، اس کے اہم نکات یا کسی حتمی سمجھوتے کے لیے متوقع وقت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔