اسرائیلی اخبار کا دعویٰ: شامی حکومت اور اسرائیل کے درمیان قطر کی ثالثی میں خفیہ مذاکرات جاری

اسرائیلی اخبار کا دعویٰ: شامی حکومت اور اسرائیل کے درمیان قطر کی ثالثی میں خفیہ مذاکرات جاری

ایک اسرائیلی اخبار کی رپورٹ نے خطے میں نئی سفارتی ہلچل کی خبر دی ہے، جس کے مطابق اسرائیل اور شام کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

 یہ بات چیت قطر کی ثالثی اور آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہو رہی ہے، جس میں ترکیہ بھی ایک اہم فریق کے طور پر شامل ہے۔

مذاکرات کی نوعیت:
رپورٹ کے مطابق، ان خفیہ مذاکرات میں اسرائیلی فوج کے چیف آف آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے اعلیٰ حکام، شامی حکومت کے نمائندے، اور ترک حکام شریک ہیں۔ یہ مذاکرات بظاہر شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی، سکیورٹی معاملات اور خطے میں نئی سفارتی صف بندی کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔

اہم نکات:
اسرائیل، شامی سرحد کی ازسر نو ترتیب کے امکان کو مسترد نہیں کر رہا، جو کہ ممکنہ طور پر گولان کی پہاڑیوں یا دیگر متنازع سرحدی علاقوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔
ابراہم معاہدے (Abraham Accords) میں شام کو شامل کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔ اس معاہدے کے تحت متعدد عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ:
معاملے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک پرانا بیان بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ "شامی صدر بشار الاسد نے ابراہم اکارڈ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔" تاہم اس بیان کی کبھی باقاعدہ تصدیق یا وضاحت نہیں کی گئی۔

تجزیہ:
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کئی محاذوں پر کشیدگی عروج پر ہے، خاص طور پر غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد صورت حال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی جیوپولیٹیکل تبدیلی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔

شامی اور اسرائیلی موقف:
تاحال شام یا اسرائیل کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں بھی شامی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے درمیان غیر رسمی رابطوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں، مگر کسی باضابطہ معاہدے یا کھلے رابطے کا امکان کم ہے، خصوصاً جب کہ شام ایران اور حزب اللہ جیسے اسرائیل مخالف اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

نتیجہ:
اگر یہ خفیہ بات چیت کامیاب ہو جاتی ہے، تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایران، روس، حزب اللہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کا ردعمل اس عمل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں اس معاملے پر مزید انکشافات متوقع ہیں۔