مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر فلسطینی گاؤں الطوانی میں حملہ کرنے، متعدد گھروں، گاڑیوں اور ایک مسجد کو آگ لگانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی ہیبرون کے علاقے مسافر یطا میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بول کر املاک کو نقصان پہنچایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گھروں، گاڑیوں اور مسجد سے آگ کے شعلے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران متعدد رہائشیوں کی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ مقامی افراد نے جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کا رخ کیا۔ تاحال کسی جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔فلسطینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے کے دوران اسرائیلی فورسز موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے آباد کاروں کو تحفظ فراہم کیا، تاہم اس دعوے پر اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران اسرائیلی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آباد کاروں کے مبینہ حملوں اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ادھر بین الاقوامی برادری نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔